کاشت کاروں کی آمدنی دو گنی کرنے کی سمت میں پیش رفت

https://urdu.indianarrative.com/Paddy.jpg

پیداوار کی صورت میں کسان زراعت کے تمام حصوں میں اعلی پیداوری درج کر رہے ہیں

 

 

حکومت کی طرف سے آمدنی میں اضافہ کے لیے اختیار کی جانے والی حکمت عملی میں شامل ہے (i) اعلیٰ پیداواریت کے ذریعہ پیداوار کی اعلی مقدار (ii) پیداوار کی کم لاگت اور (iii) کسانوں کی پیداوار پر زیادہ حقیقی معاوضہ۔

پیداوار کی صورت میں کسان زراعت کے تمام حصوں میں اعلی پیداوری درج کر رہے ہیں۔ غذائی اجناس، تیل، باغبانی، دودھ اور اسی طرح کی مجموعی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ سال 2020-21 کے آخر میں مختلف شعبوں کے تحت سالانہ پیداوار میں قابل تحسین اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس میں 252.23 ملین ٹن (2015-16) کے مقابلے میں 303.34 ملین ٹن غذائی اجناس کی پیداوار؛ 259.3 ملین ٹن (2015-16) کے مقابلے میں 326.58 ملین ٹن پھل اور سبزیاں؛ 155.49 ملین ٹن (2015-16) کے مقابلے میں 208 ملین ٹن دودھ کی پیداوار شامل ہے۔

فصلوں کے بعد کے انتظام پر زیادہ زور دیا گیا ہے، جو کاشتکاروں کو اپنی پیداوار میں بہتر منافع حاصل کرنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ ان میں e-NAM، نیا اسٹیٹ مارکیٹنگ ایکٹ، براہ راست تجارت، معاہدہ کاشتکاری، ایف پی او، ایگری لاجسٹکس، فوڈ پروسیسنگ وغیرہ کے علاوہ صحت مند خریداری کے کام شامل ہیں۔

ابھی تک، کسانوں کی سالانہ آمدنی اور بیس سال 2015-16 کے مقابلے میں فیصد سالانہ اضافہ کا کوئی تازہ ترین تخمینہ نہیں ہے۔ سال 2015-16 کی اوسط سالانہ آمدنی کو حاصل کرنے کے مقصد کے لیے، ڈی ایف آئی کمیٹی نے سال 2012-13 کے لیے این ایس ایس او کے سروے پر مبنی آمدنی کے تخمینے سے اندازہ لگایا کہ سال 2015-16 کی قیمتوں پر سال 2015-16 کے لیے کے کسانوں کی اوسط آمدنی 96,703 روپے ہے۔

پی ایم-کسان ایک جاری اور مستقل اسکیم ہے۔ مستفید افراد کی شناخت کی ساری ذمہ داری ریاست /مرکز زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ اس اسکیم کے لیے ایک خصوصی ویب پورٹل  www.pmkisan.gov.in شروع کیا گیا ہے۔ ان کے ذریعہ پی ایم – کسان ویب پورٹل پر تیار اور اپ لوڈ کردہ کسانوں کے ڈیٹا کی بنیاد پر مستفیدین کے لیے مالی فوائد جاری کیے جاتے ہیں۔ ریاست/مرکز زیر انتظام علاقوں کے ذریعہ اپ لوڈ کردہ تین مراحل سے گزرتا ہے۔ سبھی تین مراحل سے توثیق شدہ ڈیٹا کو پھرفوائد جاری کرنے کے لیے پراسیس کیا جاتا ہے۔ کوئی بھی غلط ڈیٹا متعلقہ ریاست/مرکز زیر انتظام علاقوں کو واپس بھیج دیا جاتا ہے۔

پردھان منتری کسان سمان ندھی (پی ایم - کسان) اسکیم پورے ملک میں ارضی ملکیت کے تمام کسان خاندانوں کو آمدنی کی مدد فراہم کرنے کے لیے نافذ کیا جا رہا ہے تاکہ وہ زراعت اور اس سے وابستہ سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ گھریلو ضروریات سے متعلق اخراجات کی دیکھ بھال کر سکیں۔ 1.12.2018 سے نافذ اس اسکیم کا مقصد قابل  کاشت زمین کی ملکیت والے کاشتکار خاندانوں کے لیے ہر سال  6000   روپے کی ادائیگی فراہم کرنا ہے، جس میں کچھ استثنات شامل ہیں۔6000 روپے کا مالی فائدہ مرکزی حکومت کی طرف سے ہر 4 مہینے پر 2000 روپے کی تین قسطوں میں براہ راست بینک میں جمع کیا جاتا ہے۔ فنڈ کی کسی بھی اضافی ضرورت کو اضافی گرانٹ کے ذریعہ حکومت پورا کرے گی۔ مرکزی حکومت وقتاً فوقتاً ریاستی حکومتوں سے درخواست کرتی رہتی ہے تاکہ تمام اہل کاشتکاروں کو پی ایم-کسان اسکیم کے تحت لایا جا سکے۔

زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے مرکزی وزیر جناب نریندر سنگھ تومر نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات فراہم کی۔