اسمگلنگ میں انٹرنیٹ کا کردار

https://urdu.indianarrative.com/Smriti-Irani.jpg

خواتین اور بچوں کی ترقیات کی مرکزی وزیر ، محترمہ اسمرتی زوبین ایرانی

 

 

نئی دہلی  ، 29 جولائی  ، 2021

 

انفارمیشن ٹکنالوجی ایکٹ ، 2000 میں مروجہ سائبر جرائم سے نمٹنے اور انٹرنیٹ کے ذریعے ہونے والے استحصال کو روکنے کے لئے دفعات موجود ہیں۔ `پولیس 'اور' پبلک آرڈر 'دستور ہند کے ساتویں شیڈول کے مطابق ریاستی مضامین ہیں۔ ریاستیں/مرکز کے زیر انتظام علاقے بنیادی طور پر اپنی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں (ایل ای اے) کے ذریعے سائبر کرائم سمیت جرائم کی روک تھام ، کھوج ، تفتیش اور مقدمہ چلانے کے ذمہ دار ہیں۔ ایل ای اے مجرموں کے خلاف قانون کی دفعات کے مطابق قانونی کارروائی کرتے ہیں۔ مرکزی حکومت ریاستی حکومتوں کی صلاحیتوں کی تعمیر کے لیے مختلف اسکیموں کے تحت مشوروں اور مالی امداد کے ذریعے اقدامات کو پورا کرتی ہے۔

وزارت داخلہ نے خواتین اور بچوں کے خلاف سائبر جرائم سے بچاؤ (سی سی پی ڈبلیو سی) اسکیم کے تحت تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مالی امداد فراہم کی ہے تاکہ وہ سائبر فارنسک کم تربیت لیبارٹریوں کے قیام ، جونیئر سائبر کنسلٹنٹس کی تربیت اور خدمات حاصل کرنے کے لئے ان کی کوششوں میں ان کی  مدد کرسکیں۔ سائبر فارنسک  کم ٹریننگ لیبارٹریز کو 18 ریاستوں میں بھی عمل میں لایا گیا ہے۔ مرکزی حکومت نے سائبر جرائم کے بارے میں آگاہی پھیلانے ، انتباہی جاری کرنے ، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں / پراسیکیوٹرز / عدالتی افسران کی استعداد سازی / تربیت ، سائبر فارنسک سہولیات کو بہتر بنانے کے اقدامات اٹھائے ہیں۔حکومت نے  ایل ای اے کو جامع اور مربوط انداز میں سائبر جرائم سے نمٹنےکے لئے ایک فریم ورک اور ایکو سسٹم مہیا کیا ہے۔ قومی سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل لوگوں اورخواتین اور بچوں کے خلاف سائبر جرائم پر خصوصی توجہ کے ساتھ ہر قسم کے سائبر جرائم سے متعلق واقعات کی اطلاع دہندگی کے قابل بناتا ہے۔ آن لائن سائبر شکایات درج کرنے میں مدد کے لیے ایک ٹول فری نمبر 155260 کام کر رہا ہے۔

 

یہ معلومات  خواتین اور بچوں کی ترقیات کی مرکزی وزیر ، محترمہ اسمرتی زوبین  ایرانی نے آج راجیہ سبھا میں تحریری جواب میں دی