Urdu News

انتظار حسین کے افسانوں میں دیہی و قصباتی فضا نمایاں طور پر نظر آتی ہے: پروفیسر صغیر افراہیم

خیابانِ ادب ثمر ہاؤس علی گڑھ میں انتظار حسین کی یاد میں ایک ادبی نشست انعقاد

خیابانِ ادب ثمر ہاؤس علی گڑھ میں انتظار حسین کی یاد میں ایک ادبی نشست انعقاد

 انجمنِ محبانِ اردو علی گڑھ کے زیرِ اہتمام خیابانِ ادب ثمر ہاؤس دھراعلی گڑھ میں انتظار حسین کی یاد میں ایک ادبی نشست کا انعقاد کیا گیا۔جس کی صدارت معروف ادیب اور نقاد پروفیسر صغیر افراہیم نے کی۔

مہمان خصوصی کے طور پر یاسمین خان اسسٹینٹ پروفیسر گورمینٹ نرمدا کالج نرمدا پرم ایم پی نے شرکت کی۔نظامت کے فرائض انجینئر سید محمد عادل فرازنے انجام دئیے۔

پروفیسر صغیر افراہیم نے اپنے صدارتی خطبے میں انتظار حسین کے فن و شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ انتظار حسین کے افسانوں میں دیہی و قصباتی فضا بھر پور طریقے سے نمایاں نظر آتی ہے۔ انھوں نے اپنے افسانوں میں بڑی ہی ہنر مندی اور مہارت کے ساتھ اپنے ماضی کی یادوں کو زندہ کر دیا ہے۔

انتظار حسین کی تخلیقی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو ان کی شخصیت کے کئی پہلو نکلتے ہیں وہ بیک وقت افسانہ نگار،ناول نگار،ناقد،مترجم ہونے کے ساتھ ساتھ صحافت کے میدان میں بھی ممتاز و منفردنظر آتے ہیں۔

ان کے افسانوی مجموعے’’گلی کوچے، کنکری، آخری آدمی، شہر افسوس، کچھوے، خیمے سے دور، خالی پنجرہ اور شہرزاد‘‘ ادبی حلقوں میں بڑی قدر و منزلت رکھتے ہیں۔

ان کے یہاں داستانوں کی سی فضا، کردار نگاری اور اساطیری رجحان صاف نظر آتاہے۔جس کو وہ عصر حاضر کے تقاضوں میں ڈھال کر پیش کرتے ہیں۔عادل فراز نے کہا آج انتظار حسین کی یاد میں اس پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں شرکت کے لئے مہمان خصوصی کے طور پر یاسمین خان بھوپال سے تشریف لائیں ہیں۔

آپ گورمینٹ نرمدا کالج ایم پی میں اسسٹینٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز ہیں۔اور ڈاکٹر عتیق النساء کی زیر نگرانی ’’صغیر افراہیم کی حیات و خدمات‘‘پر تحقیقی مقالہ لکھ رہی ہیں۔ہم انجمن محبان اردو کے تمام اراکین کی جانب سے ان کا استقبال کرتے ہیں۔

اس کے بعدپروگرام میں ذوالفقار خان زلفی نے انتظار حسین کا افسانہ قیوما کی دکان اور انعم فاطمہ نے آخری آدمی کے اقتباس پڑھ کر سنائے۔آخر میں ثنا فاطمہ مدیر سہ ماہی سیما نے تمام اراکین کا شکریہ ادا کیا۔

Recommended