ڈرگ اڈکشن میں لت پت قوم و ملت کا عظیم سرمایہ نوجوان نسل کو برباد ہونے سے بچائیں

https://urdu.indianarrative.com/Drugs.webp

ڈرگ اڈکشن میں لت پت قوم و ملت کا عظیم سرمایہ نوجوان نسل کو برباد ہونے سے بچائیں

ممبرا ممبئی، بھیونڈی، اورنگ آباد، سلوڑ، پربھنی، نانڈیڑ، عثمان آباد اور مالیگاؤں ڈرگ مافیا کے لیے مارکیٹ بن چکے ہیں۔علماء، ٹیچرز،ذاکٹرز اور سوشل اکیویسٹ سے اس سمت دھیان دینے کی اپیل

ایس این انصاری (فری لانس رائٹر)

نوجوان نسل کسی بھی قوم کا عظیم سرمایہ ہوتا ہے۔ صحت مند تن اور دماغ والے نوجوانوں سے ہی قوم ترقی کی طرف گامزن ہوتی ہے۔اگر کسی قوم کے نوجوانوں کی صحت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو کمزور کر دیا جائے تو سوچو اس قوم کا مستقبل کیا ہوگا ؟ خیر یہ موٹی بات آپ کو سمجھ میں اس وقت آئے گی جب آپ کا کوئی اپنا ڈرگ اڈکشن کا شکار ہو۔

ریاست مہاراشٹر کے مسلم اکثریتی شہر ممبرا ممبئی، بھیونڈی، اورنگ آباد،سلوڑ، پربھنی، نانڈیڑ، عثمان آباد اور مالیگاؤں ڈرگ مافیا کے لیے بطور ڈرگ مارکیٹ بن چکے ہیں۔ ان شہروں میں زیادہ تر مسلم نوجوان اور کم عمر بچے ماڈرن ڈرگس کا شکار ہیں۔ جن میں الپرا زولم جسے کتا گولی بھی کہا جاتا ہے. اس کے علاوہ کھانسی کی ٹانک جس میں کوڈنگ نارکوٹک ہوتا ہے۔ دیگر ڈرگس میں ایم ڈی پاؤچ, چرس, گانجہ, افیم اور سولیشن سے بھی نشہ کیا جارہا ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پولس انتظامیہ کا اس پر کنٹرول کیوں نہیں ؟ دوسرا سوال ڈرگ ڈیلرز کون لوگ ہیں؟ اور تیسرا سوال اس کا کاروبار کس طرح کیا جارہا ہے؟ ان سب سوال کا ایک ہی جواب ہے اس پورے ڈرگ ریکٹ میں کرپٹ پولس ڈپارٹمنٹ، پولیٹیکل لابی اور ڈرگ مافیا شامل ہیں۔ جو لوگ گلی محلوں میں ڈرگ ڈائریکٹ سپلائی کر رہے ہیں. ان کا کنکشن پولیٹیکل لابی سے رہتا ہے۔ایسے لوگوں کو سیاسی جماعتیں پناہ دیتی ہیں۔ اور سپورٹ بھی کرتی ہیں. اس کاروبار میں زیادہ تر لوگ لیڈران کے بہت قریبی یا پھر رشتہ دار ہوتے ہیں. پورے کاروبار کو پھلنے پھولنے کے لیے سب سے اہم رول کرپٹ پولس ڈپارٹمنٹ کا ہوتا ہے۔ کیوں کہ منافع کا کچھ حصہ ایڈوانس میں جو انھیں کیش اور میٹھائی کی شکل میں ملتا ہے. ایسے آفیسران ملائی کھاتے ہیں اور ڈرگ مافیا پر کوئی ایکشن نہیں لیتے ہیں۔

واضح رہے نشہ مخالفت میں سب سے پہلے ایسے سیاسی لیڈران نشہ مکت سیل، نشہ مخالف مہم،نشہ مکت تحریک اور دھرنےآندولن تک کرتے دکھائی دیتے ہیں، جن کا ساتھ وہی کرپٹ پولس افسران بھی دیتے ہیں اور ان سب کی ڈرامہ بازی کو پولیٹیکل میڈیا سیل کے ذریعے اخبارات، یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر پیش کیا جاتا ہے، جس کا مقصد نشہ مکت ہرگز نہیں بلکہ وہ اس ڈرگ مارکیٹ کو بچانا ہوتا ہے۔

شہر کے معزز علماء، اساتذہ کرام، ڈاکٹر حضرات اور سوشل اکیویسٹ افراد سے اپیل ہے کہ نوجوان نسل کو اپنا فرض سمجھ کر ڈرگ اڈکشن سے بچائیں۔ علماء مساجد سے اس موضوع پر بیانات کریں۔ اساتذہ کرام طلبہ کو ڈرگ اڈکشن کے نقصانات بتائیں۔ڈاکٹر حضرات ایسے مریضوں کی نفسیاتی کونسلنگ کریں۔ سوشل اکیویسٹ افراد سے اپیل ہے ڈرگ اڈکشن مخالف کمیٹی یا فیڈریشن تشکیل دیں جس میں پولیٹیکل لابی، کرپٹ پولس ڈپارٹمنٹ اور ڈرگ مافیا سے منسلک افراد کو اس میں ہرگز شامل نہ کریں۔ امید ہے قوم و ملت کا عظیم سرمایہ نوجوان نسل کو بچانے کے لیے مخیران قوم اس پر کوئی عملی لائحہ عمل طے کرے گی۔