وہابی، سلفی، دیوبندی، بریلوی اور قبر پرستی کے حوالے سے مسعود جاوید کی فکر انگیز تحریر

https://urdu.indianarrative.com/Darul-Uloom-Deoband.webp

دارالعلوم دیوبند

 دیوبندی تو وہابی تھے قبر پرست کب سے ہو گئے!

دیوبند مکتبہ فکر کا المیہ
 تحریر مسعود جاوید
زاہد  تنگ  نظر  نے  مجھے  کافر  جانا 
اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلمان ہوں میں 
ستم ظریفی کی انتہا دیکھیں کہ بر صغیر ہند یعنی ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں یوم تاسیس سے لے کر  اب تک  دارالعلوم دیوبند اور دیوبندی مکتبہ فکر کو  وہابی مکتبہ فکر یا وہابیت  کا ہندوستانی ورژن سمجھا جاتا  ہے اور بریلوی و دیگر مسلک والے عموماً دیوبند مکتبہ فکر کے لوگوں کو وہابی کے نام سے مخاطب کرتے ہیں اس لئے کہ اس میں دو رائے نہیں کہ  دیوبند مکتبہ فکر مسلکی طور پر حنفی ہونے کے باوجود خالص توحید ؛  شرک ، شبہ شرک اور بدعات کے معاملے میں وہابی نقش قدم پر ہے‌۔ مگر سعودی یا اور سلفی اس جماعت کو قبر پرست قرار دینے پر تلے ہیں! 
وہابیت کیا ہے :  اس کی نسبت اٹھارویں صدی کے ایک عالم دین اور مبلغ اسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ جو سعودی عرب (نجد) کے رہنے والے تھے اور اپنے علاقے میں مزارات پر کۓ جانے والے سجدہ کو، اگر عبادت کے طور پر ہو تو شرک اور اگر تعظیما ہو تو شبہ شرک ، اسی طرح بزرگان دین سے غیر شرعی توسل کو اسلام کے خلاف،  توحید کے منافی اور شرک و بدعت کہتے تھے اور اسی فکر کی تبلیغ کرتے تھے‌ ۔ 
فکری اعتبار سے وہابی تحریک اللہ کی وحدانیت کے گرد گھومتی ہے اور فقہی مسلک کے اعتبار سے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی اتباع کے ساتھ ساتھ   مجتہد عالم دین ابن تیمیہ رح  سے متاثر تھی اس لئے حنبلی مسلک سے قریب ہوتے ہوئے بھی بعض مسائل میں وہ  امام حنبل سے اختلاف رکھتے تھے اور  اپنی بصیرت اور راۓ کے مطابق فتویٰ دیتے تھے بالفاظ دیگر وہ ائمہ اربعہ امام ابوحنیفہ، امام شافعی، امام مالک اور امام حنبل رحمہم اللہ میں سے کسی کی تقلید نہیں کرتے تھے یعنی غیر مقلد تھے۔ محمد بن عبدالوہاب کو اسی دوران سعودی سردار محمد بن سعود کی حمایت حاصل ہوئی اور اس طرح اس کی جڑیں سعودی عرب اور جزیرہ نما عرب میں مضبوط ہوتی گئیں۔
اسلام کو اس کی اصل صورت میں دیکھنے کی اس تحریک کو سیاسی تجزیہ نگار شدت پسندی سے تعبیر کرتے ہیں۔ سعودی عرب حنبلی مسلک کے متبع ہونے کے باوجود وہابی تحریک کی نہ صرف متبع بلکہ سرپرستی بھی کرتا رہا تاہم  ماضی قریب تک  دوسرے مسالک ثلاثہ کے خلاف تعصب کی بجائے رواداری کا مظاہرہ کرتا تھا۔ 
یہیں غیر مقلد یا اہل حدیث یا سلفی جماعت کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا بالخصوص پٹرو ڈالر کی زبردست فراوانی نے سعودی حکومت سے دینی مدارس ، دینی کلیات اور دینی جامعات کے قیام کا کام لیا اور یہاں کے فارغین کو ملک و بیرون ملک سلفیت کی تبلیغ کے لئے مامور کیا ۔ ۔۔۔ بدقسمتی سے وہ فارغین بھی دوسرے مسلک اور مکتبہ فکر کی طرح دعوت دین سے زیادہ دعوت مسلک یعنی دعوت سلفیت کو بر حق اور دوسرے مسالک کو گمراہ ثابت کرنے میں اپنی توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ خالص توحید یعنی شرک،  شبہ شرک ، مزارات اور توسل کے خلاف جانی اور مانی جانے والی وہابی تحریک دیوبند کو بھی مدمقابل مان کر ایک دوسرے کو گمراہ ثابت کرنے میں لگے ہیں۔ مجموعی طور پر فرق صرف مقلد اور غیرمقلد کا ہے تو پھر ایک دوسرے پر لعن طعن کیوں! 
 یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ غیر مقلد داعیوں میں ایک الگ آئیڈنٹیٹی کے  لئے اتنی شدت کیوں ہے کہ انہوں نے ہر جگہ اپنی الگ مسجدیں بنا لیں لیکن اچھی بات یہ ہے کہ دیوبندی مسلک کے لوگ بھی ، بشمول میں، بلا تردد ان کی مساجد میں باجماعت نماز ادا کرتے ہیں حالانکہ بہت سے مقامات پر لکھا ہوتا ہے
 " مسجد اہل حدیث"! 
یہ اللہ کے گھر کو مسلکی خانوں میں بانٹنے کا کام الحمدللہ دیوبندی مسلک والے نہیں کرتے۔ وہ کسی بھی مسجد خواہ دیوبندی، بریلوی یا اہل حدیث کی ہو، بلا جھجک داخل ہوتے ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں۔ وہ کسی بھی مسجد میں نہیں لکھتے ہیں کہ یہ " دیوبندی مسجد ہے" یہ کام بعض اہل حدیث اور بعض بریلوی کرتے ہیں۔ 
گزشتہ جمعہ دو تین لوگوں نے، جو کسی اور شہر سے آۓ تھے، پوچھا کہ یہاں پر مسجد کہاں ہے ذرا رہنمائی کریں۔ میں نے کہا کہ آیۓ میرے ساتھ وقت کم ہے میں وہیں جا رہا ہوں۔ انہوں نے کہا ہمیں کسی سنی مسجد کا پتہ بتائیں ! وا اسفاہ ! وقت کم ہے نماز چھوٹ جانے کا امکان ہے پھر بھی مسجد نہیں سنی مسجد کی تلاش ہے! 
ایسا متشدد رویہ دیوبند مکتبہ فکر کے لوگوں کا ہو یا سلفیوں کا، بہر حال باعث انتشار ہے۔ جیسا کہ اوپر لکھا گیا دونوں وہابی ہیں تو پھر بعض جزئیات کی وجہ سے مد مقابل سمجھ کر ایک دوسرے کو کمزور کرنا ملت کے شیرازے کو بکھیرنا ہے۔ 
تبلیغی جماعت پر پابندی کے تناظر میں جن خدشات کا اظہار میں نے روز اول کیا تھا کہ اس سے دنیا بھر میں متعصب اور اسلام دشمن عناصر کو نہ صرف تبلیغی جماعت بلکہ دعوت دین کے کام کرنے والوں پر پابندی عائد کرنے کا موقع ملے گا اور استدلال میں وہ مرکز اسلام سعودی عرب کا حوالہ دیں گے وہ خدشہ حقیقت میں بدلنا شروع ہو گیا ہے  ہندوستان میں کئ جہت سے تبلیغی جماعت اور مرکز پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ شروع ہوگیا ہے۔ 
میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو. 
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں
دوسری بات یہ کہ سلفیت اور سعودیت کے فرق کو ملحوظ خاطر رکھا جائے ۔ دینی ادارے اور جماعت اصل اصول ماخذ و منبع اور مضبوط دلائل کی روشنی میں وجود میں آتے ہیں اس لئے وقت کے نشیب و فراز کے ساتھ اصولی طور پر تبدیل نہیں ہوتے جبکہ ریاست ، ملک اور حکومت سیاسی ڈھانچے ہوتے ہیں انہیں وقت کے ساتھ ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا مجبوری ہوتی ہے۔ حکومتیں  اس شوق میں یا مجبوری کے تحت بسا اوقات مذہبی تقاضوں کو پس پشت ڈال دیتی ہیں۔   
سعودی عرب ایک ملک ہے گرچہ دنیا کے امیر ترین ملکوں میں سے ایک ہے پھر بھی ترقی یافتہ ممالک کی دوڑ میں شامل ہونے کا شوق اسے لبرل اڈوانس اور فری سوسائٹی کی طرف لے جا رہا ہے۔ اگر سلفی جماعت اپنے آپ کو  سعودی حکومت کا جزء سمجھ بیٹھنے کی غلطی کرے گی تو اس کے لئے سعودی عرب کے تفریحی اور عیش و عشرت کے جائز ناجائز مقامات کا دفاع کرنا مشکل ہو جائے گا۔