Urdu News

جاپان نے آدھی رات کو کولکاتہ پر کیوں گرایا تھا بم؟جانئے اس رپورٹ میں

کلکتہ کا مشہور زمانہ پل جو کہ ہاوڑہ پل کے نام سے مشہور ہے

اس تاریخ کو جاپان نے ہندوستان کے شہر کلکتہ (کولکاتہ) میں بم گرائے تھے۔ یہ 1942 کی بات ہے۔ دوسری جنگ عظیم چل رہی تھی۔ برطانیہ، امریکہ سمیت مغربی ممالک کا اتحاد جاپان، جرمنی جیسے ممالک کے خلاف جنگ لڑ رہا تھا۔

 ہندوستان اس وقت برطانیہ کی کالونی تھا۔ برطانیہ جنگ کے دوران اپنے اتحادیوں کی مدد کے لیے ہندوستان کی سرزمین استعمال کر رہا تھا۔ اس سے پریشان ہو کر جاپان نے 20 دسمبر 1942 کو ایک سخت فیصلہ لیا۔ جاپان کی امپیریل آرمی ایئر فورس نے کولکاتہ پر بم گرائے۔ آدھی رات کی بمباری کے باعث شہر کی کئی اہم عمارتیں تباہ ہو گئیں۔

دراصل اس وقت چین جاپان سے لوہا لے رہا تھا۔ برطانیہ اور امریکہ چین کو جنگی سامان پہنچاتے تھے۔ اور اس کے لیے ایک ہی راستہ تھا، جو ہندوستان سے ہوتا ہوا جاتا تھا۔ جاپان اس سپلائی چین کو توڑنا چاہتا تھا۔ اسی لیے اس نے کولکاتہ پر حملہ کیا۔

ہندوستان کا فضائی دفاعی نظام ان دنوں بہت مضبوط تھا۔ اسی لیے جاپان نے بم گرانے کے لیے رات کا وقت منتخب کیا۔ اس حملے میں جاپانی فضائیہ نے ہاوڑہ پل اور بندرگاہ کو نشانہ بنایا جو اس وقت دنیا کے سب سے بڑے پل کی فہرست میں تیسرے نمبر پر تھا۔

تاہم اندھیرے کی وجہ سے بم ہاوڑہ پل پر نہیں بلکہ ایک ہوٹل کے اوپر گرے۔ اس دوران کولکاتہ کی  لائٹیںرات کے وقت منقطع کر دی گئیں اور کئی اہم عمارتوں کو سیاہ رنگ دیا گیا۔ 1942 اور 1944 کے درمیان جاپان نے کئی بار کولکاتہ پر حملہ کیا۔

Recommended