Urdu News

بی سی سی آئی کا انتباہ،کے پی ایل میں کھیلنے والوں پر ہمیشہ کے لیے پابندی لگا دی جائے گی

کے پی ایل اور بی سی سی آئی

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل) کی منظوری دے دی ہے۔ یہ ٹی 20 لیگ 6 اگست سے مقبوضہ کشمیر کے مظفر آباد کرکٹ اسٹیڈیم میں منعقد کی جانی ہے۔ تمام پاکستانی کرکٹرس  اس لیگ میں کھیلنے جا رہے ہیں اور کچھ غیر ملکی کھلاڑیوں کے بھی کھیلنے کی توقع ہے، لیکن بھارتیہ کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کو اس پر اعتراض ہے، کیوں کہ یہ ٹورنامنٹ متنازعہ علاقے میں منعقد کیا جا رہا ہے۔

بی سی سی آئی نے کشمیر پریمیئر لیگ کے حوالے سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے بھی رجوع کیا تھا، لیکن آئی سی سی کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ آئی سی سی کے دائرہ اختیار کا معاملہ نہیں ہے۔  ذرائع

 کے مطابق  آئی سی سی کے ترجمان نے کہا کہ یہ ٹورنامنٹ آئی سی سی کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے کیونکہ یہ انٹرنیشنل کرکٹ ٹورنامنٹ نہیں ہے۔ آئی سی سی کی شق 2.1.3 کے تحت کوئی بھی قومی کرکٹ ایسوسی ایشن اپنے علاقے میں ڈومیسٹک کرکٹ کروا سکتی ہے۔

آئی سی سی شق 2.1.4 کے مطابق مداخلت صرف اس صورت میں کر سکتی ہے جب میچز کسی ایسوسی ایٹ رکن کے علاقے میں ہوں۔ بی سی سی آئی نے اس حوالے سے آئی سی سی کے ساتھ معاملہ اٹھایا تھا۔ پی سی بی کا خیال ہے کہ وہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں لیگ کا اہتمام کر رہے ہیں، جیسا کہ بھارت نے 1983 اور 1986 میں ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کی سری نگر میں میزبانی کی تھی۔

یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب جنوبی افریقہ کے سابق کرکٹر ہرشل گبز نے ٹویٹ کیا تھا کہ بی سی سی آئی انہیں کشمیر پریمیئر لیگ میں کھیلنے سے روک رہا ہے اور دھمکی دے رہا ہے کہ اگر وہ کے پی ایل میں کھیلیں گے  تو انہیں بھارت میں کوئی موقع نہیں ملے گا۔ ایک افسر نے ایسا ہی بیان دیا ہے جو کہ ایک انتباہ ہے۔

بھارتیہ کرکٹ کنٹرول بورڈ  (بی سی سی آئی) نے اب کے پی ایل 2021 سے وابستہ ہونے کی امید رکھنے والوں کے لیے باؤنڈری لائن کھینچی ہے۔ بھارتی بورڈ نے دنیا بھر کے تمام کرکٹ بورڈ  سے کہا ہے کہ اگر ان کے کھلاڑی کے پی ایل میں حصہ لیتے ہوئے دیکھے گئے تو ان پر بھارت میں لیگ کھیلنے یا بی سی سی آئی کے ساتھ کسی بھی قسم کے تجارتی تعلقات رکھنے پر پابندی ہوگی۔

 بی سی سی آئی کے ایک عہدیدار نے کہا، "بورڈ  سے ان کے کھلاڑیوں کو کشمیر لیگ میں حصہ لینے کی اجازت نہ دینے کی درخواست کرتے ہوئے، ہم نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو انہیں بھارت میں کسی بھی ٹورنامنٹ میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یہاں تک کہ کرکٹ کی سرگرمیوں کا حصہ بھی نہیں بن سکتے۔ ہم نے یہ کام قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔

Recommended