Urdu News

زراعت کو دیرپا اور منافع بخش بنانے کی ضرورت ہے : نائب صدرجمہوریہ ہند

کسانوں کے لیے کم لاگت والی فنانسنگ کی دستیابی

<p dir="RTL">agriculture sustainable and profitable</p>
<p dir="RTL">جناب نائیڈو نے کووڈ – 19 عالمی وبا کی وجہ سے پریشانیوں کے باوجود ریکارڈ اناج پیدا کرنے میں بے لوث خدمات انجام دینے پر ملک کی زرعی برادری کی تعریف کی۔</p>
<p dir="RTL">کسانوں نے، جن میں سے کچھ لوگ اپنے کنبے کے افراد کے ساتھ آئے تھے ، نائب صدر جمہوریہ کو اپنے تجربات سے واقف کرایا۔</p>
<p dir="RTL">ان سبھی نے نائب صدر جمہوریہ کو بتایا کہ وہ نامیاتی اور قدرتی زراعت کو اپنانے کے بعد بہت خوش ہیں۔ کیونکہ انہیں اس تنوع اور بین فصلی زراعت کی وجہ سے اچھا منافع حاصل ہو رہا ہے۔</p>
<p dir="RTL"></p>
<p dir="RTL"></p>
<p dir="RTL">اگرچہ ان کے کنبے شروع میں آرگینک اور قدرتی زراعت کے بارے میں جھجھک رہے تھے لیکن انہوں نے اچھے نتائج دیکھتے ہوئے اپنے نظریے میں تبدیلی کی اور ان کی حوصلہ افزائی  کی کہ وہ روایتی زراعت کو اپنائیں۔ کسانوں نے کہا کہ کم لاگت کے ساتھ انہیں بہتر اور زیادہ اچھے نتیجے حاصل ہو رہے ہیں۔ وہ روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ ٹکنالوجی کا بھی استعمال کر رہے ہیں اور بہتر نتائج حاصل کر رہے ہیں۔ کسانوں نے کہا کہ زراعت کی کامیابی کے لیے مارکیٹنگ کی بنیادی حیثیت ہے۔</p>
<p dir="RTL">آخر میں کسانوں نے اس خوشی کا اظہار کیا کہ انہیں نائب صدر جمہوریہ سے بات چیت اور اپنے تجربات سے واقف کرانے کا موقع ملا۔</p>
<p dir="RTL">ترقی پسند کسان، جناب جی ناگارتنم نائیڈو نے جن کا تعلق چتور سے ہے نائب صدر جمہوریہ کو بتایا کہ وہ مربوط زراعت ، حیاتیاتی تنوع اور پانی کے موثر بندوبست کا طریقہ اپنا رہے ہیں۔ وہ کم پانی استعمال کرتے ہوئے الگ الگ طرح کی فصلیں اگا رہے ہیں۔</p>

<h4 dir="RTL">جناب پائراپاکا راجو نے کہا کہ وہ کبھی بے گھر کسان تھے.</h4>
<p dir="RTL"></p>
<p dir="RTL">بھدرادری کوٹا گوڈم  ضلعے کے جناب دیوراپلی ہری کرشن نے. جو ایک ٹیکنیکل آدمی تھے اور اب کسان بن گیے ہیں. کہا کہ وہ آرگینک زراعت کو فروغ دینے کےلیے جدید ٹکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں . اور انہیں اچھے نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔</p>
<p dir="RTL">نگر کرنول ضلعے کے جناب پائراپاکا راجو نے کہا. کہ وہ کبھی بے گھر کسان تھے لیکن وہ دیگر کسانوں کے لیے جذبے کا وسیلہ بن گئے۔ وہ 500 قسم کے بیج اگا رہے ہیں اور وہ سوشل میڈیا گروپوں کے ذریعے کسانوں کو مشورہ دے رہے ہیں۔</p>
<p dir="RTL">ایک زرعی جوڑا محترمہ لاونیہ ریڈی اور جناب رمن ریڈی نے جن کا تعلق نگر کرنول ضلعے سے ہے. کہا کہ وہ آرگینک زراعت کرتے تھے اور دھان اور دالیں اگاتے تھے۔  وہ بھی اپنی پیداوار کی خود مارکیٹنگ کرتے تھے۔</p>

<h4 dir="RTL">جناب سکھواسی ہری بابو نے بتایا کہ وہ باغبانی کرتے ہیں.</h4>
<p dir="RTL"></p>
<p dir="RTL">رنگا ریڈی ضلعے کے جناب سکھواسی ہری بابو نے بتایا کہ وہ باغبانی کرتے ہیں .اور  مربوط زرعی طریقے اپنا کر  مختلف اقسام کے پھل اور جڑی بوٹیاں اگاتے ہیں۔</p>
<p dir="RTL">پدم شری  یافتہ  اور رایڈو نیستم کے ایڈیٹر جناب یدلاپتی وینکٹیسور راؤ  بھی اس موقعے پر موجود تھے۔</p>
<p dir="RTL">اس سے پہلے دن میں  نائب صدر جمہوریہ نے اُن سبھی کسانوں کو مبارکباد دی . جو ملک کی خوراک کی یقینی فراہمی کے لیے انتھک طریقے سے کام کر ہے ہیں۔</p>
<p dir="RTL">agriculture sustainable and profitable</p>.

Recommended