Urdu News

یوروپی یونین کا وفد کشمیر دورے پر

یوروپی یونین کا وفد کشمیر دورے پر


یوروپی یونین کا وفد کشمیر دورے پر

یوروپی یونین کے سفیر سری نگر پہنچ گئے

سری نگر ، 17 فروری (انڈیا نیرٹیو)

حکام نے بدھ کو بتایا کہ یوروپی یونین کا ایک اعلیٰ سطحی وفد آج سری نگر پہنچ گیا ۔خبر رساں ایجنسی کے مطابق وفد دو روزہ دورے پر ہے اور اس کا کشمیر میں مختلف وفود سے ملاقات ہونے جارہی ہے۔

دفعہ370کی تنسیخ اور جموں وکشمیر کو دو مرکزی زیر انتظام حصوں میں تقسیم کرنے کے فیصلہ کے بعد یہ اپنی نوعیت کا تیسرا دورہ ہے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق ، وفد کا اجلاس آج وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں منعقد ہوگا ،جس دوران وہ سیول سوسائٹی اراکین کیساتھ ملاقات کرے گا ۔ ذرائع نے بتایا کہ کشمیر آنے والے سفیر وادی کے کچھ وفود سے بھی مل سکتے ہیں۔ 

حالاں کہ پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر میں ملکی و غیر ملکی وفود کے آنے اور جانے کا سلسلہ جاری رہے گا ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں صورت حال ٹھیک نہیں ہے۔بتادیں کہ بائیس ممالک سے تعلق رکھنے والے سفارت کاروں کا ایک اعلیٰ سطحی وفد جموں و کشمیر کے دو روزہ دورے پر بدھ کی صبح سری نگر پہنچ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کا کشمیر کے سیاسی لیڈروں کی نقل وحمل کو محدود کرنے کا اپروچ درست نہیں ہے۔ان کا الزام تھا کہ حکومت نے کشمیر کے سیاسی لیڈروں کو گھروں میں ہی بند کر دیا ہے۔محبوبہ مفتی نے ان باتوں کا اظہار بدھ کے روز کپواڑہ کے ہندواڑرہ علاقے کے دورے کے دوران نامہ نگاروں کے ساتھ کیا۔ وہ کپواڑہ کے دو روزہ دورے پر ہیں۔

انہوں نے کہا ’وفود کے آنے اور جانے کا سلسلہ جاری رہے گا لیکن جموں وکشمیر میں صورت حال ٹھیک نہیں ہے‘۔انہوں کہا کہ مرکزی حکومت نے کشمیر کے سیاسی لیڈروں کے ساتھ جو اپروچ روا رکھا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے۔،ہمیں اپنے گھروں میں ہی بند کر دیا گیا ہے‘۔

مفتی محبوبہ اور دیگر سیاسی لیڈران کشمیر کی ترقی سے پریشان نظر آرہے ہیں۔ کیوں کہ زمینی حقیقت ذرا مختلف ہیں۔ دفعہ 370 کی منسوخی نے کیا کچھ جموں وکشمیر کو دیا ہے ، اس حقیقت سے سب واقف ہیں۔ کشمیر نوجوان اب زیادہ مطمئن نظر آرہے ہیں۔ دہائیوں سے ریاست کی حالت ناگفتہ بہ رہی ہے۔ مرکزی حکومت نے ریاست جموں وکشمیر کے لیے بہت بہتر کام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ چناں چہ دقیانوسی سیاست اب سر چڑھ کر بولنا شروع کردیا ہے۔ امید ہے کہ جموں وکشمیر میں پہلے سے بہتر حالات ہوجائیں گے اور جموں وکشمیر کے نوجوان بہتر مستقبل کے لیے بہتر کوشش کریں۔

Recommended