Urdu News

نباتاتی تنوع اور ٹیکنا لوجی : فطرت – ثقافت کے مربوط حل کی جانب پیش رفت

وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا

 

 
 

نئی دلّی ، 25 مئی / حیاتیاتی تنوع کے بین الاقوامی  دن کے موقع پر  منعقدہ ایک پروگرام میں   بھارت کے مختلف  حصوں کے ماہرین نے  نباتاتی تنوع کے  تحفظ کی اہمیت اور مختلف پہلوؤں  پر   ، اِس کے ٹیکنا لوجی کے تعلق اور  پائیدار ترقی کے معاملے پر تبادلۂ خیال کیا ۔

          دہرہ دون کے وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا  کے معروف سائنسداں ڈاکٹر رمیش  کرشنا مورتی نے  ، ‘‘ نباتاتی تنوع اور ٹیکنا لوجی : فطرت – ثقافت کے مربوط حل کی جانب پیش رفت ’’ کے موضوع پر  اپنی تقریر میں  حیاتیاتی تنوع  کے تحفظ کے لئے فطرت اور ثقافت پر مبنی حل کی اہمیت  پر زور دیا ۔ انہوں نے یہ بات سائنس اینڈ ٹیکنا لوجی کے محکمے  کے خود مختار ادارے ، گواہاٹی کے  پچھم گورا گاؤں میں   انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانس  اسٹڈی اِن سائنس اینڈ ٹیکنا لوجی ( آئی اے ایس ایس ٹی ) کے ساتھ بایو نیسٹ  – آئی اے ایس ایس ٹی کے ذریعے منعقدہ  پروگرام میں کہی ۔

          آئی اے ایس ایس  ٹی کے ڈائریکٹر  پروفیسر  آشش کے مکھرجی نے  زور دے کر کہا کہ نباتاتی تنوع   بہت سے  پائیدار ترقی کے چیلنجوں  کا حل پیش کرتا ہے اور ہمیں  نباتاتی تنوع  کو معدوم ہونے سے بچانے کے لئے اپنی بہترین کوششیں کرنی چاہیئے ۔  وہ 22 مئی ، 2021 ء کو بھارت کی آزادی کے 75 سال کی تقریبات کے جشن  ،  آزادی کا امرت مہوتسو   کے ایک حصے  کے طور پر منعقدہ  حیاتیاتی تنوع کے بین الاقوامی دن پر  آن لائن پروگرام میں  اظہارِ خیال کر رہے تھے ۔

          اس پروگرام میں  انسٹی ٹیوٹ کے  سکریٹری ارکان ، عملے اور  ریسرچ اسکالروں سمیت کئی  اہم شخصیات نے  آن لائن ڈجیٹل پلیٹ فارم   پر کووڈ – 19 پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے  شرکت کی ۔  ان میں  بایو نیسٹ کے سائنسداں ڈاکٹر تانیا داس پول ،  ڈاکٹر دیباشیش چودھری نے شرکت کی ۔

          حیاتیاتی تنوع  کا بین الاقوامی دن ، اقوامِ متحدہ سے منظور شدہ   بین الاقوامی سطح پر منایا جانے والا دن ہے ، جس کا مقصد  نباتاتی تنوع کو فروغ دینا ہے ۔ یہ دن ہر سال  22 مئی کو  منایا جاتا ہے  اور یہ اقوامِ متحدہ کے  پائیدار ترقیاتی اہداف   کے ایجنڈے میں شامل ہے ۔


 

Recommended