Urdu News

حکومت کو نصیحت کی جگہ ملکی قوانین پر عمل کرے ٹویٹر

@Twitter

مرکزی حکومت نے اس کی جانب سے جاری گائیڈ لائنس پر عمل نہیں کرنے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹویٹر کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹویٹر دنیا کی جہوریت پر اپنے شرائط مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ 

جمعرات کے روز الیکٹرانک اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی وزارت نے بھی کہا کہ ٹویٹر ہندوستان کے انصاف کے نظام کی نا قدری کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور حکومت کو یہ ہدایت دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس کی قانونی پالیسی کیسی ہو۔ 

ٹویٹر کی جانب سے جمعرات کو ایک بیان جاری کرنئے آئی ٹی قانون پر عمل کرنے کے لیے 3 ماہ کا وقت مانگا تھا۔ اسی کے ساتھ ہی ، ٹویٹر نے یہ بھی کہا کہ بھارت میں کام کرنے والے اس کے ملازمین کو سیکورٹی سے متعلق خطرہ لاحق ہے۔ ساتھ ہی پولیس کے زور زبردستی والے ہتھکنڈوں کی تنقید کی۔ ٹویٹر نے کہا کہ وہ حکومت کے طے شدہ قواعد پر عمل پیرا ہونا چاہتا ہے لیکن آزادانہ اور غیر جانبدارانہ مکالمے کے تناظر میں نئے قواعد میں اصلاحات چاہتا ہے۔

وزارت نے ٹویٹر کی صلاح کو مسترد کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک میں ٹویٹر سمیت سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمس کے ملازمین محفوظ ہیں۔ ان ملازمین کی سیکورٹی کے بارے میں کوئی فکر کرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ ساتھ ہی حکومت نے ٹویٹر کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے اسے بے بنیاد ، غلط اور ہندوستان کو بدنام کرنے کی کوشش بتایا۔

حکومت نے کہا کہ ٹویٹر اپنی غلطیوں کو چھپانے کے لئے اس طرح کی کوشش کر رہا ہے۔ وزارت نے یہ بھی کہا کہ ٹویٹر کوٹال مٹول کرنے کے بجائے ملک کے قانون پر مکمل عمل کرنا چاہئے۔قانون سازی اور پالیسی بنانا ایک خودمختار ملک کا حق ہے۔ ٹویٹر کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ وہ صرف ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہے اور اسے اس بات کا کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ حکومت کو قانونی پالیسیاں بنانے کی ہدایت دے۔

وزارت نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ٹویٹر ہندوستان کے قانون پر عمل کرنے سے گریزاں ہوکر اظہار رائے کی آزادی کی خود پامالی کررہا ہے۔وزارت نے کہا کہ حکومت لوگوں کے ذریعہ اس سے سوالات کرنے اور اس کی تنقید کرنے کے حق کو تسلیم کرتی ہے۔ ٹویٹر پر جوابی حملہ کرتے ہوے بیان میں کہا گیا ہے کہ حقیقت میں ٹویٹر اپنی من مانی پالیسی کی وجہ سے اظہار کی آزادی کی خلاف ورزی کرتی ہے ۔

 اس کی جانب سے من مانے طریقے سے ٹویٹر اکاونٹ بند کئے جارہے ہیں اور ٹویٹ کو ہٹایا جا رہا ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹویٹر بھار ت پائے جانے والے کووڈ اسٹین کو بھارتی اسٹین کہنے والوں اور ٹیکہ کاری کی حوصلہ شکنی کرنے والوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کر رہا ہے۔ 

Recommended