Urdu News

ہندوستان کے علمی معاشرے میں تبدیلی قومی تعلیمی پالیسی کا مقصد

ہندوستان کے علمی معاشرے میں تبدیلی قومی تعلیمی پالیسی کا مقصد

<div style="text-align: right;">NEP 2020 and MANUU</div>
<div style="text-align: right;">حیدرآباد۔22۔دسمبر(ہ س)قومی تعلیمی پالیسی 2020 کا مقصد ہندوستان کو ایک ایسے علمی معاشرے میں تبدیل کرنا ہے. جس میں تحقیقی کام کے اعلیٰ معیار پر خصوصی توجہ دی جاتی ہو۔ ہم قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے مستقبل قریب میں نفاذ کی جانب بڑھ رہے ہیں. ایسے میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں اس پر ویڈیو لائبریری (ای مواد) کی تیاری کا آغاز یقینا ایک بہت ہی اہم، حساس اور ایک لازمی اقدام ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر کے کستوری رنگن، صدر نشین، قومی تعلیمی پالیسی 2020  و سابق صدر اسرو نے اُردو یونیورسٹی میں قومی تعلیمی پالیسی پر. ای مواد کی تیاری کے آن لائن افتتاحی ایپی سوڈ میں کیا۔</div>
<div style="text-align: right;"></div>
<h4 style="text-align: right;">مانو میں این ای پی پر ای مواد کی تیاری  کا افتتاح۔</h4>
<div style="text-align: right;"></div>
<div style="text-align: right;">پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، وائس چانسلر انچارج نے صدارت کی۔این ای پی پر روشنی ڈالتے ہوئے. ڈاکٹر کستوری رنگن جو مہمان خصوصی تھے نے کہا کہ ہمیں تعلیم میں دلچسپی رکھنے والے افراد، مختلف زبانوں، ثقافت اور معاشرتی پس منظر کے حامل افراد کے ذریعے NEP کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا. کہ یہ پالیسی وقت کی ضرورت ہے۔ صرف دستاویز کو پڑھنا کافی نہیں ہے. بلکہ اس کو سمجھنے، تجزیہ، ترجمانی اور ایک ٹھوس نتیجہ اخذ کرنے، ہمیں متعدد اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پالیسی کی اہم خصوصیات پر بھی روشنی ڈالی جس میں لچک، باہمی رابطہ، مذہبی تنوع وغیرہ شامل ہیں .</div>
<div style="text-align: right;">اور پالیسی کے پس منظر کو بھی واضح کیا۔پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ اردو یونیورسٹی نے پالیسی کی تیاری سے قبل بھی اس کے لیے مواد فراہم کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی جامع اور مختلف طور پر منفرد ہے۔ اسکول تا کالج کی تعلیم کی تجدید اس کا ہدف ہے۔</div>
<div style="text-align: right;"></div>
<h4 style="text-align: right;">ڈاکٹر کستوری رنگن، پروفیسر رحمت اللہ کے خطاب</h4>
<div></div>
<div style="text-align: right;"></div>
<div style="text-align: right;">یہ پالیسی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس میں ماضی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے. مستقبل کے پیش نظر اسے حال اور مستقبل پر توجہ دیتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئی پالیسی میں صرف علم پر مبنی تعلیم کو علم کے علاوہ ہنر پر مبنی.  ازبر کرنے کے طریقوں کو اہلیت کی جانچ، یک موضوعاتی سے زائد موضوعاتی و بین موضوعاتی، زائد نصابی، نصابی سرگرمیوں وغیرہ کو جامع سرگرمیوں میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ اس پالیسی کی اہمیت پر توجہ دلاتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے ساتھ سائنس طلبہ اپنے بنیادی مضمون کے ساتھ ساتھ فنون اور انتظامیہ کے مضامین بھی پڑھ سکتے ہیں۔</div>
<div style="text-align: right;">اس پالیسی کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اس کو لوگوں تک صحیح طور پر پہنچایا جائے اور اس کوشش میں اردو یونیورسٹی کا انسٹرکشنل میڈیا سنٹر بھی سخت محنت کر رہا ہے۔قبل ازیں،  .رجسٹرار انچارج پروفیسر صدیقی محمد محمود نے مہمان خصوصی کا استقبال کیا.</div>
<div style="text-align: right;"></div>
<h4 style="text-align: right;">اس پالیسی کی اہمیت پر توجہ دلاتے ہوئے</h4>
<div style="text-align: right;"></div>
<div style="text-align: right;">اور <a href="https://urdu.indianarrative.com/education/nationa-education-policy-nep-2020-signs-of-change-in-the-field-of-education-6644.html">مانو کے دائرہ کار</a> کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے افتتاحی اجلاس کاروائی بھی چلائی۔انہوں نے کہا کہ این ای پی الکٹرانک مواد کی تیاری مانو کا تاریخی فیصلہ ہے۔این ای پی پر ای مواد کی تیاری اور ڈاکٹر کے کستوری رنگن کو افتتاحی اجلاس میں مدعو کرنے کی منصوبہ بندی. اور اس پر عمل آوری میں جناب رضوان</div>
<div style="text-align: right;">احمد، ڈائرکٹر آئی ایم سی اور ان کی ٹیم نے اہم رول ادا کیا ہے۔</div>
<div style="text-align: right;">NEP 2020 and MANUU</div>.

Recommended