Urdu News

ایم پی اردو اکیڈمی کے زیر اہتمام صغیر ریاض اور نذر نظامی کی یاد میں ادبی اور شعری نشست کا انعقاد

ایم پی اردو اکیڈمی کے زیر اہتمام صغیر ریاض اور نذر نظامی کی یاد میں ادبی اور شعری نشست کا انعقاد

مشعلیں لے کے اٹھے ہو تو قسم بھی کھاؤ

ہم چراغوں کو جلائیں گے مکانوں کو نہیں  

مدھیہ پردیش اردو اکادمی، محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام ضلع ادب گوشہ جبلپور کے ذریعے ’’سلسلہ اور تلاشِ جوہر ‘‘کے تحت جبلپور کے مشہور ادبا و شعرا صغیر ریاض اور نذر نظامی کی یاد میں شعری و ادبی نشست کا انعقاد 22 جولائی ، 2023 کو دوپہر 3 بجے شری جانکی رمن کالج، جبلپور ضلع کوآرڈینیٹر راشد راہی کے تعاون سے  کیا گیا۔

اردو اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج جبلپور میں یہاں کے مشہور شعرا و ادبا نذر نظامی اور صغیر ریاض کو یاد کیا جارہا ہے۔ نذر نظامی کی بات کی جائے تو وہ روایتی شاعری کے ساتھ ساتھ جدید طرز تحریر کے لیے بھی جانے جاتے تھے ۔ ان کے کلام میں صوفیانہ افکار جابجا نظر آتے ہیں ۔ وہیں صغیر ریاض کی بات کی جائے تو انھوں نے اپنی تخلیقات کے ذریعے ہمیشہ سماجی ہم آہنگی کا پیغام دیا۔ وہ سیاسی تبصرے بھی کرتے تھے لیکن منفی انداز اپنائے بغیر، جسے وہ شعوری ہم آہنگی بھی کہتے تھے۔ ان دونوں عظیم شخصیات سے ہی نئی نسل کو تہذیب اور ادب کے دائرے میں رہ کر اظہار کا سلیقہ سیکھنے کی ضرورت ہے۔

جبلپور ضلع کے کوآرڈینیٹر راشد راہی نے  بتایا کہ منعقدہ ادبی و شعری  نشست دو اجلاس پر مبنی رہی. پہلے اجلاس میں دوپہر 3 بجے تلاش جوہر کا انعقاد کیا گیا جس میں ضلع کے نئے تخلیق کاروں نے فی البدیہہ مقابلے میں حصہ لیا۔

اس مقابلے میں حکم صاحبان کے طور پر چھندواڑہ کی سینئر شاعرہ دیپ شکھا ساگر اور دموہ کے مشہود شاعر شاہد دموہی موجود رہے جنہوں نے نئے تخلیق کاروں کو اشعار کہنے کے لیے دو طرحی مصرعے دیے جو درج ذیل ہیں ۔

اول: کوئی انگلی نہیں اٹھی کوئی پتھر نہیں آیا

دوم: ہر کسی سے گزر گیا ہوں میں

مندرجہ بالا مصرعوں پر نئے تخلیق کاروں کے ذریعے کہی گئی غزلوں اور ان کی پیش کش کی بنیاد پر حکم صاحبان کے متفقہ فیصلے سے اسد کربلائی نے اول،شاداب وارثی نے دوم اور وجے ماہر نے سوم مقام حاصل کیا۔تینوں فاتحین نے جو اشعار کہے وہ درج ذیل ہیں۔

مصیبت، غم، بلا، لاچارگی، بیماری آئی ہے

پڑی جب دوست ضرورت دوست کی اکثر نہیں آیا

اسد کربلائی

رخ سے میرے کفن ہٹا دیجے

پردہ نظروں سے کرگیا ہوں میں

شاداب وارثی

لاکھ کوشش کریں جو ماہر ہیں

کام اپنا تو کرگیا ہوں میں

وجے ماہر

اول دوم اور سوم مقامات حاصل کرنے والے فاتحین کو اکادمی کی جانب اعزازی رقم بالترتیب 3000، 2000 اور 1000 روپے اور سرٹیفکیٹ سے نوازا جائے گا۔

 دوسرے اجلاس میں شام 5 بجے سلسلہ کے تحت شعری و ادبی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت جبلپور کے استاد شاعر راج ساگری نے کی اور مہمان خصوصی کے طور پر سنیئر ادیب ڈاکٹر ابھیجات کرشن ترپاٹھی موجود رہے۔نشست کی شروعات میں جبلپور کے سینئر ادبا فیروز کمال اور شفیق انصاری نے جبلپور کے مشہور تخلیق کاروں صغیر ریاض اور نذر نظامی کے فن و شخصیت پر گفتگو کر انھیں خراج عقیدت پیش کیا۔

فیروز کمال نے نذر نظامی کی شاعری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نذر نظامی کا طرز تحریر منفرد، صوفیانہ اور روایتی شاعری کا امین ہے۔ انھوں نے 50 سال سے زیادہ عرصہ تک ادب کی خدمت نہایت خاموشی  اور سادگی سے کی اور آئندہ نسلوں کے لی اپنا بیش بہا قیمتی سرمایہ ’’نذرانہ حیات‘‘کے نام سے کتابی شکل میں چھوڑ گئے۔ یہ کتاب 1992 میں ناگپور سے ان کے صاحبزادگان خوشتر نظامی اور منشی قدیر نور نظامی نے شائع کرائی۔

شفیق انصاری نے صغیر ریاض کے فن و شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ صغیر ریاض آسمان ادب پر ایک چمکتے ہوئے ستارے کی مانند تھے۔ انھوں نے اپنی نگارشات سے نہ صرف مدھیہ پردیش بلکہ پورے ملک میں ایک اہم مقام حاصل کیا۔ کلام بلاغت نظام پر انھیں اس درجہ مہارت حاصل تھی کہ وہ عام لفظوں میں اپنی رشحات فکر کو شعری پیکر میں ڈھال دیا کرتے تھے ۔ ان کے اشعار میں لفظی تانا بانا اپنی انفرادی شہرت کا حامل تھا ۔

شعری نشست میں جو اشعار پسند کیے گئے وہ درج ذیل ہیں۔

اس نے جیسا چاہا ویسا کرڈالا

دیپ جلایا اور اندھیرا کر ڈالا

دیپ شکھا ساگر

ایک طوفاں تھا تعاقب میں مرے شام و سحر

لیکن اس طوفاں کو گرد کارواں سمجھا تھا میں

شاہد دموہی

تاج محل اک خواب ہے جانم میں اتنا دھنوان نہیں

خود کا اپنا گھر بنوانا میرے بس کی بات نہیں

راج ساگری

عطا ہوئے ہیں اگر ہم کو شاعری کے چراغ

ہمارا فرض ہے دیں سب کو آگہی کے چراغ

دانش ضیغمی

تجھ کو میری مجھے تیری ضرورت ہے تو ہے

تو اسے مانیں نہ مانیں یہ حقیقت ہے تو ہے

رگھوویر امبر

میں ترے پیار کو جھک کر سلام کرتا ہوں

تو بے وفا ہے مگر احترام کرتا ہوں

راشد راہی

شعور ذہن میں ایسے جگا دیا جائے

جہالتوں کا اندھیرا مٹا دیا جائے

نثار احمد نثار

نئی صدی کا چلن کیا ہے جان جاؤ گے

ذرا کبھی کسی بچے کو ڈانٹ کر دیکھو

رضوان حکیمی

زخم ایجاد کرکے دیکھا ہے

خود کو برباد کرکے دیکھا ہے

پورنیما سنگھ ارم

سلسلہ ادبی و شعری نشست کی نظامت کے فرائض راشد راہی  نے انجام دیے۔پروگرام کے آخر میں ضلع کوآرڈینیٹر راشد راہی نے تمام مہمانوں، تخلیق کاروں اور شرکا کا شکریہ ادا کیا۔

Recommended