Urdu News

کوروناوائرس کی ویکسین کا مسلمانوں کے لیے استعمال جائز ہے:اماراتی کونسل

<h3 style="text-align: center;">کوروناوائرس کی ویکسین کا مسلمانوں کے لیے استعمال جائز ہے:اماراتی کونسل</h3>
<p style="text-align: center;">Coronavirus vaccine is legal for Muslims: Emirati Council</p>
<p style="text-align: right;">دبئی،24دسمبر(انڈیا نیرٹیو)</p>
<p style="text-align: right;">اس ویکسین کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ اس میں سورکی چربی یا گوشت کے اجزا شامل ہیں اور اس بنیاد پراس کا مسلمانوں کے لیے استعمال جائز نہیں ہے۔</p>

<h4 style="text-align: right;">کرونا وائرس کی ویکسین لوگوں کی جانوں تحفظ کے لیے استعمال</h4>
<p style="text-align: right;">کونسل نے کہا ہے کہ ”کرونا وائرس کی ویکسین لوگوں کی جانوں تحفظ کے لیے استعمال کی جانے والی ادویہ میں شامل ہے۔اسلامی عقیدے کے مطابق وبائی امراض کے وقت ایسی ادویہ کا استعمال جائز ہے تاکہ کسی ایک متاثرہ شخص سے پورا معاشرہ ہی وبائی مرض سے دوچار نہ ہوجائے۔“</p>
<p style="text-align: right;">”حرام“ اجزاپر مشتمل ویکسینوں کے استعمال کی اسلام میں ممانعت ہے لیکن اگر کوئی متبادل موجود نہ ہو تو پھر ایسی ویکسین کا استعمال ممنوع نہیں ہے۔</p>

<h4 style="text-align: right;">یو اے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام نے کونسل کا یہ بیان نقل کیا</h4>
<p style="text-align: right;">یو اے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام نے کونسل کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ ”کووِڈ-19 ایک وبائی مرض ہے اور یہ ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہوسکتا ہے۔اس سے ہزاروں افراد کی زندگیاں خطرات سے دوچار ہوسکتی ہیں،اس لیے ایسی ویکسینوں کا استعمال قابل قبول ہے۔“</p>
<p style="text-align: right;">دریں اثناامارت دبئی نے آج بدھ سے شہریوں اور مکینوں کو کرونا وائرس کی ویکسین مفت لگانے کا آغاز کیا ہے۔اس مہم کے دوران میں امریکا کی دوا ساز کمپنی فائزر کی جرمن کمپنی بائیو این ٹیک کے اشتراک سے تیار کردہ ویکسین لگائی جائے گی۔</p>

<h4 style="text-align: right;">سور کے گوشت سے حاصل کردہ جیلیٹین کا ویکسین</h4>
<p style="text-align: right;">واضح رہے کہ سور کے گوشت سے حاصل کردہ جیلیٹین کا ویکسین کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال عام ہے تاکہ وہ ذخیرہ کرنے اور حمل ونقل کے دوران میں خراب نہ ہو۔</p>
<p style="text-align: right;">بعض کمپنیوں نے سور کے گوشت سے حاصل کردہ جیلیٹین سے پاک ویکسین تیار کرنے کی کوشش کی ہے۔سوئٹزرلینڈ کی دوا ساز کمپنی نوارتیس نے اس سے پاک ایک ویکسین تیار کی ہے۔</p>

<h4 style="text-align: right;">سعودی عرب اور ملائشیا کی دواساز فرم اے جے فارما</h4>
<p style="text-align: right;"> سعودی عرب اور ملائشیا کی دواساز فرم اے جے فارما بھی ایسی ایک ویکسین تیار کررہی ہے۔امریکہ کی دوا ساز کمپنیوں فائزر ، ماڈرنا اور برطانوی آسٹرا زینیکا کے ترجمان حضرات یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی تیار کردہ کووِڈ-19 کی ویکسینوں میں سور کے گوشت سے بنی مصنوعات کو شامل نہیں کیا گیا ہے</p>
<p style="text-align: right;"> لیکن فی الوقت ان کمپنیوں کی مسلم ممالک کو مہیا کی جانے والی ویکسین کی کھیپوں کے ساتھ جیلیٹین کے عدم استعمال کا سرٹی فیکیٹ شامل نہیں ہوگا۔</p>

<h4 style="text-align: right;">مسلمانوں کے علاوہ آرتھو ڈکس یہود بھی سور کے گوشت</h4>
<p style="text-align: right;">مسلمانوں کے علاوہ آرتھو ڈکس یہود بھی سور کے گوشت سے بنی مصنوعات کو استعمال نہیں کرتے ہیں۔ وہ بھی انھیں ناپاک اور حرام سمجھتے ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">ان کاکہنا ہے کہ نئی ویکسینوں کی تیاری میں سور کی جیلی (جیلیٹین) استعمال کی جارہی ہے،اس لیے یہ حرام ہےاور اس کو لگوانے سے گریز کیا جائے۔</p>.

Recommended