Urdu News

کلائمیٹ 2021 کے موضوع پر منعقدہ قائدین کے سربراہ اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم کا خطاب

@PMO India

کلائمیٹ 2021 کے موضوع پر منعقدہ قائدین کے سربراہ اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم کا خطاب

عالی جناب صدر بائیڈن، معزز ساتھیو، اس کرۂ ارض کے میرے ساتھی شہریو،

نمسکار!

اس پہل قدمی کے لیے میں صدر بائیڈن کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔ انسانیت اس وقت عالمی وبائی مرض سے نبردآزما ہے۔ اور یہ تقریب اس امر کی بر وقت یاد دہانی کراتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔درحقیقت، موسمیاتی تبدیلی دنیا بھر کے لاکھوں افراد کے لیےایک جیتی جاگتی حقیقت ہے۔ ان کی زندگیوں اور ذریعہ معاش کو پہلے سے ہی اس کے برعکس نتائج کا سامنا ہے۔

دوستو،

موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں انسانیت کو ٹھوس کاروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں تیز رفتاری کے ساتھ، بڑے پیمانے پر اورعالمی سطح پرایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ہم، بھارت میں، اپنی جانب سے کوششیں کر رہےہیں۔ 2030 تک 450 گیگاواٹ کے بقدر قابل احیا توانائی کا ہمارا اولوالعزم ہدف ہماری عہدبندگی کو ظاہر کرتا ہے۔

ہماری ترقیاتی تبدیلیوں کےباوجود، ہم نے صاف ستھری توانائی، توانائی قابلیت،جنگل بانی اور حیاتیاتی گوناگونیت کے سلسلے میں متعدد اقدامات کیے ہیں۔ اسی وجہ سے ہم ان چند ممالک میں شامل ہیں جن کی این ڈی سی 2 ڈگری سیلسیئس سے مطابقت رکھتی ہیں۔ہم نے بین الاقوامی شمسی اتحاد،لیڈ آئی ٹی، اورتباہ کاری سے بچاؤ کے بنیادی ڈھانچے جیسی عالمی پہل قدمیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

دوستو،

موسمیاتی ذمہ داری کے حامل ایک ترقی پذیر ملک کے طور پر، بھارت میں ہمہ گیر ترقی کے سانچے تیار کرنے کےلیے بھارت شراکت دار ممالک کا خیر مقدم کرتا ہے۔ یہ سانچے ان دیگر ترقی پذیر ممالک کی بھی مدد کر سکتے ہیں جنہیں گرین فائنینس اور صاف ستھری تکنالوجیوں تک قابل استطاعت رسائی کی ضرورت ہے۔اسی وجہ سے، صدر بائیڈن اور میں ’’بھارت۔ امریکہ موسمی اور صاف ستھری توانائی ایجنڈا 2030 شراکت داری‘‘ کا آغاز کر رہے ہیں۔ ساتھ مل کر، ہم سرمایہ کاری، صاف ستھری تکنالوجیوں کا مظاہرہ اور سبز اشتراک کو فعال بنانے میں مدد فراہم کریں گے۔

دوستو،

 

آج، اب جب کہ ہم عالمی موسمیاتی کاروائی کے بارے میں تبادلہ خیالات کر رہے ہیں، میں آپ کے ساتھ ایک خیال ساجھا کرنا چاہتا ہوں۔ بھارت کا فی کس کاربن فٹ پرنٹ عالمی اوسط سے 60 فیصدکم ہے۔ وہ اس لیے کیوں کہ ہماری طرز زندگی کی جڑیں ابھی بھی ہمہ گیر روایتی طور طریقوں سے جڑی ہیں۔

اس لیے آج، میں کلائمیٹ ایکشن میں طرز زندگی کی تبدیلی کی اہمیت پر زور دینا چاہتا ہوں۔ ہمہ گیر طرز زندگی اور ’’بنیادوں کی طرف واپس لوٹنے‘‘ کا رہنما فلسفہ مابعد کووِڈ کے دور میں ہماری اقتصادی حکمت عملی کا ایک اہم ستون ہونا چاہیے۔

دوستو،

میں عظیم بھارتی راہب سوامی وویکانند کے الفاظ کودوہرانا چاہتا ہوں۔ انہوں نے ہم سے کہا تھا کہ، ’’جب تک کہ ہدف حاصل نہ ہو، تب تک اٹھے رہیں، بیدار رہیں۔‘‘ آیئے ہم اسے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف کاروائی کی دہائی بنائیں۔

Recommended