Urdu News

افغانستان: بغیر حجاب کابل ایئر پورٹ پر پہنچی خواتین پر طالبانیوں نے کی فائرنگ

افغانستان: بغیر حجاب کابل ایئر پورٹ پر پہنچی خواتین پر طالبانیوں نے کی فائرنگ

کابل: افغانستان کی راجدھانی کابل پر طالبان کے قبضہ کے بعد ملک کی صورتحال انتہائی بدتر ہوگئی ہے۔ ایک طرف عوام میں خوف کا ماحول ہے تو دوسری طالبان نے اپنا تسلط قائم کرلیا ہے۔ اسی ضمن میں کابل ایئر پورٹ سے ایک حیران کرنے والی خبر سامنے آئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، کابل ایئر پورٹ پر طالبان جنگجووں کی جانب سے دو ایسی خواتین کو گولی مار دی گئی ہے، جنہوں نے حجاب نہیں پہنا تھا۔ اس کے جواب میں امریکی فوجیوں نے بھی جوابی فائرنگ کی، جس سے ایئر پورٹ پر بھگدڑ مچ گئی۔ وہیں طالبان کے ایک افسر نے کہا کہ ہم جلد ہی راشٹرپتی احاطے کو اسلامی امارات کا اعلان کریں گے۔ راشٹرپتی بھون پر طالبان کے کمانڈر نے قبضہ کرلیا ہے۔

اسی درمیان یہ بھی خبریں آرہی ہیں کہ طالبان نے لوگوں سے 17 اگست تک کی صبح 8 بجے تک گھروں میں رہنے کو کہا ہے۔ کابل ایئر پورٹ سے کمرشیل فلائٹیں بند کردی گئی ہیں، صرف فوجی طیاروں کے اڑنے کی اجازت ہے۔ افغانی صدر اشرف غنی کے ملک چھوڑنے کے بعد افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح نے کہا کہ وہ اپنی زمین اور لوگوں کے ساتھ ایک پیغام کے لئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان حامی ظالمانہ تانا شاہی کی مخالفت کرنا ان کا فرض ہے۔

اشرف غنی نے ملک چھوڑنے کے بعد جاری کیا اپنا بیان

کابل: افغانستان کی راجدھانی کابل میں طالبان کے آنے کے بعد صدر اشرف غنی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد ملک چھوڑ دیا۔ افغانستان چھوڑ کر قزاقستان پہنچے اشرف غنی نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کیا ہے۔ اشرف غنی نے لکھا کہ خون کے سیلاب کو روکنے کے لئے انہیں یہی راستہ سب سے مناسب لگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کے لئے مشکل انتخاب تھا۔ اشرف غنی نے لکھا، ’آج میرے سامنے ایک مشکل انتخاب آیا، مجھے مسلح طالبان کا سامنا کرنا چاہئے جو راشٹرپتی بھون میں داخل ہونا چاہتے تھے یا محبوب ملک (افغانستان) کو چھوڑنا چاہئے، جس کی میں نے گزشتہ 20 سالوں سے تحفظ اور تحفظ کے لئے اپنی زندگی وقف کردی‘۔ اشرف غنی نے لکھا، ’اگر ابھی بھی بے شمار ملک کے باشندے شہید ہوتے اور وہ کابل شہر کی بربادی دیکھتے تو نتائج اس 60 لاکھ آبادی والے شہر میں بڑی انسانی آف آجاتی‘۔ اشرف غنی نے لکھا، ’طالبان نے مجھے ہٹایا، وہ یہاں پورے کابل اور کابل کے لوگوں پر حملہ کرنے کے لئے آئے ہیں‘۔ اشرف غنی نے مزید لکھا، ’خون کے سیلاب سے بچنے کے لئے میں نے سوچا کہ باہر نکلنا ہی سب سے اچھا متبادل ہے۔ طالبان نے تلوار اور بندوقوں کا فیصلہ جیتا ہے اور اب وہ ملک کے باشندوں کے احترام، دولت اور عزت نفس کی حفاظت کے لئے ذمہ دار ہیں… تاریخ میں کبھی بھی خشک طاقت نے کسی کو منظوری نہیں دی ہے اور یہ ان کے لئے نہیں دیں گے‘۔

Recommended