Urdu News

افغانستان میں طالبان حکومت نے انسانی حقوق کمیشن کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا

افغانستان میں طالبان حکومت نے انسانی حقوق کمیشن کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا

افغانستان میں برسراقتدار طالبان حکومت نے انسانی حقوق کمیشن کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ چار بڑے محکموں کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ ان کے دفتروں کو تالے لگا دیے گئے ہیں۔ طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مالی بحران کی وجہ سے کرنا پڑا۔

گذشتہ سال اگست میں افغانستان میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد ہفتے کے روزطالبان کی حکومت نے بجٹ کا اعلان کیا۔ بتایا گیا کہ افغانستان کو اس وقت 501 ملین ڈالر کے بجٹ خسارے کا سامنا ہے۔

طالبان کے ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ ان محکموں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انہیں بجٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس لیے ان کوتحلیل کر دیا گیا۔ اس کے لئے  طالبان حکومت کو ہر طرف سے تنقید کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ انسانی حقوق کمیشن کے علاوہ نیشنل ری آرگنائزیشن ہائی کونسل اور نیشنل سیکورٹی کونسل کو بھی تحلیل کر دیا گیا ہے۔

 ہیومن رائٹس واچ میں ایسوسی ایٹ ویمنس رائٹ ڈائریکٹر اور افغانستان کی سابق سینئر محقق ہیتھر بر نے کہا: "آئیے ایک  ایسے افغانستان کو یاد کرنے کے لئے کچھ وقت نکالیں، جس میں انسانی حقوق کا کمیشن تھا۔ یہ صحیح  نہیں تھا، یہ ادارہ کبھی براہ راست  نہیں تھا لیکن  یہ کہیں جانے، مدد مانگنے اور انصاف مانگنے کے لئے بہت معنی رکھتا ہے‘۔ انہوں نے کہا ہے کہ عالمی اتحاد برائے قومی انسانی حقوق کے اداروں کے اپریل میں 120 رکن ممالک تھے۔  انہیں افغانستان سے ہٹنے کی ضرورت ہوگی۔

 قابل ذکر ہے کہ طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان کو معاشی مار جھیلنی پڑرہی ہے۔ یہاں کے لوگوں کو انسانی بحران کا سامنا ہے۔ چاروں طرف بدامنی ہے۔ لڑکیاں خوف کے سائے میں زندگی گزار رہی ہیں۔ میڈیا کی آزادی سلب ہو چکی ہے۔

Recommended