افغانستان خواتین: کابل کے احتجاج نے دو ہزارہ خواتین کے حالیہ قتل پر توجہ مبذول کرائی

https://urdu.indianarrative.com/KABUL-PROTEST7543.webp

افغانستان خواتین: کابل کے احتجاج نے دو ہزارہ خواتین کے حالیہ قتل پر توجہ مبذول کرائی

کابل۔17/جنوری

اتوار کو افغان خواتین کے زیر اہتمام کابل احتجاج نے دو ہزارہ خواتین کے حالیہ قتل کی طرف توجہ دلائی ہے۔  میڈیا کی خبروں کے مطابق، مظاہرے کا آغاز کابل کے ڈیبوری علاقے میں ہوا اور کابل یونیورسٹی کے آس پاس میں اختتام پذیر ہوا۔ مظاہرین نے کابل شہر میں دو خواتین کے قتل پر برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دو خواتین کو ''امارت اسلامیہ کی افواج نے گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔'' مظاہرین نے یہ بھی کہا کہ امارت اسلامیہ نے تین ہائی پروفائل خواتین کو حراست میں لے لیا ہے۔

مظاہرین کے مطابق شمالی صوبے بلخ میں ایک مظاہرے کے دوران تین خواتین کو حراست میں لیا گیا۔ افغانی  میڈیاکی خبر کے مطابق، مظاہرین نے کہا کہ تین خواتین کو ابھی رہا کیا جانا باقی ہے۔ افغانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، ایک مظاہرین نے کہا، ''(احتجاج) زینب عبدالحی اور زینب احمدی کے لیے ہے، جو بغیر کسی جرم کے رات میں ماری  گئی تھی۔' ایک اور مظاہرین نے کہا۔  ''جب تک میں زندہ ہوں اور میرے جسم میں خون کا ایک قطرہ ہے، ہم کھڑے رہیں گے، ہم لڑیں گے۔

 ہزارہ لڑکی کے سینے میں لگی گولی میرے سینے میں بھی لگی،'افغانستان میں ہزارہ اقلیت کو باقاعدگی سے ٹارگٹ کلنگ، تشدد اور ان کی مذہبی اور نسلی شناخت کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ٹارگٹ حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور ہزارہ اقلیت روزانہ طالبان کے تشدد کا نشانہ بن رہی ہے۔ طالبان کے چند ہی دنوں میں افغانستان کے زیادہ تر حصے پر قبضہ کرنے کے فوراً بعد، گروپ نے بامیان میں مقتول ہزارہ رہنما عبدالعلی مزاری کے مجسمے کو تباہ اور دھماکے سے اڑا دیا، جو اس کے پچھلے دور حکومت میں بامیان کے بدھوں کی تباہی کی ایک سنگین یاد دہانی ہے۔