Urdu News

گلگت بلتستان میں مہنگائی اور بے روزگاری پر حکومت کے خلاف غم و غصہ

گلگت بلتستان میں مہنگائی اور بے روزگاری پر حکومت کے خلاف غم و غصہ

غیر قانونی طور پر مقبوضہ گلگت بلتستان میں غیر معمولی مہنگائی اور بے روزگاری کی شرح میں تیزی سے اضافے کے خلاف خطے کے مختلف اضلاع میں زبردست احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران کیے گئے ان کے جھوٹے وعدوں پر حکومت کے خلاف مظاہرہ کرنے کے لیے سیکڑوں لوگ ضلع غذر کی سڑکوں پر نکل آئے اور اب مقامی لوگوں کے خلاف کثیر سطحی معاشی کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔

 متعدد اشیاء پر سبسڈی ختم کر دی گئی ہے، مہنگائی کی شرح  حد سے گزر چکی ہے اور بے روزگاری تاریخی بلندی پر ہے۔ وسیع پیمانے پر بے روزگاری نے نہ صرف علاقے کے لوگوں کے سماجی و اقتصادی معیار کو متاثر کیا ہے بلکہ اس نے مقامی لوگوں کو قرضوں اور افسردگی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق، غیر قانونی طور پر مقبوضہ علاقے میں ایک فرد کی ذہنی صحت بے روزگاری کی صورت حال کی وجہ سے بہت زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ بے روزگاری کی شرح خاص طور پر گریجویٹس، پوسٹ گریجویٹ اور ڈاکٹریٹ کے درمیان زیادہ ہے جن کے پاس کافی مواقع نہیں ہیں۔ انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ایک منظم پالیسی کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بے راہ روی کی طرف دھکیل رہی ہے۔

 پاکستان نے چند سال قبل گلگت بلتستان کے لوگوں کو چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کی مخالفت کرتے ہوئے ملازمتوں، تعلیم اور خوشحالی کا وعدہ کیا تھا۔ دریں اثناء گلگت بلتستان کے عوام انتہائی غربت کی چکی میں پس رہے ہیں جس کی کوئی امید بھی نہیں ہے۔ وہ ماضی میں متعدد مواقع پر اپنی بے بسی کا اظہار کر چکے ہیں لیکن اس نے بمشکل پاکستان کے موقف کو خطے کی طرف منتقل کیا ہے۔

Recommended