Urdu News

افغان خواتین کی حفاظت کے لیے اقوام متحدہ سے کی فریاد

افغان خواتین

افغان پارلیمنٹ کے اسپیکر رحمانی کا بیان

خواتین کے ساتھ غیر انسانی سلوک اور امتیازی سلوک باعث تشویش

نئی دہلی، 14جولائی (انڈیا نیرٹیو)

افغانستان میں طالبان کے بڑھتے ہوئے تسلط کے درمیان اقوام متحدہ سے  ان خواتین کی حفاظت کی فریاد کی گئی ہے جو طالبان کے زیر قبضہ علاقوں میں ہیں اور جہاں طالبان نے خواتین پر سخت پابندیاں عائد کردی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ طالبان نے ملک کے 34 صوبوں میں سو سے زیادہ اضلاع پر قبضہ کرلیا ہے۔

افغانستان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر میر رحمن رحمانی نے جنرل اجلاس کے دوران کہا کہ طالبان کے زیر قبضہ علاقوں میں خواتین کے ساتھ غیر انسانی اور اسلام دشمن امتیازی سلوک تشویشناک ہے۔ رحمانی نے اقوام متحدہ، افغانستان انسانی حقوق کمیشن، یورپی کمیشن سمیت خواتین کے لئے کام کرنے والی دیگر تنظیموں کے ذریعہ ایسے تمام معاملات میں غیر جانبدارانہ تشخیص کی ضرورت بتائی۔

افغانستان ٹائمس کے مطابق امریکی افواج کے انخلا کے ساتھ ہی طالبان نے ملک کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ ان علاقوں کی خواتین پر وہی سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں جو 1996 سے 2001 تک طالبان حکومت کے دوران وحشیانہ انداز میں عائد کی گئی تھی۔ اس  میں خواتین کو سرکاری دفاتر میں کام کرنے پر پابندی عائد کردی گئی تھی اور لڑکیوں کے اسکول اور کالج بند کردیئے تھے۔خواتین کو لازمی طور پر برقع پہننے اور بغیر کسی مرد ساتھی کے گھر سے باہر نہ جانے کا حکم دیا گیا تھا۔

اطلاعات ہیں کہ ان کے زیر قبضہ علاقوں میں بھی طالبان کی طرف سے اسی طرح کی سخت پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔ صوبہ بلخ کے گورنر فرہاد عزیزی کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے ایسی خواتین کو ہلاک  کر دیاہے جنہوں نے لازمی طور پر جسم کو ڈھانپنے کے ان کے احکامات کی خلاف ورزی کی۔ تاہم باغی گروپ کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے خواتین پر کسی قسم کی پابندی کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کے ساتھ طالبان کاسلوک شرعی قوانین کے مطابق ہے۔

Recommended