Urdu News

آسٹریلیا نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لیا

فلسطین کا قدیمی شہر یروشلم

کینبرا، 18 اکتوبر (انڈیا نیرٹیو)

 آسٹریلیا کی حکومت نے مغربی یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا۔ اس فیصلے کو اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات کے ایک حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

آسٹریلیا کے سابق وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے 2018 میں مغربی یروشلم کو اسرائیل کے  دارالحکومت کے طور پر منظوری دی تھی۔  نئے وزیر اعظم اینتھونی البانیز نے پچھلی حکومت کے فیصلے کو تبدیل کر دیا ہے۔

تاہم آسٹریلیا کے وزیر خارجہ وونگ نے گزشتہ حکومت کے فیصلے کو پلٹنے کی تردید کی ہے۔

وونگ کے ایک ترجمان نے آسٹریلیا کے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ حکومت کسی بھی امن مذاکرات کے حصے کے طور پر حل کئے جانے والے  معاملے میں یروشلم کی حتمی صورتحال پرغور کرنا چاہتی ہے۔

ہمیں امن اور سلامتی کی ضرورت ہے۔ ہم ایسے نقطہ نظر کی حمایت نہیں کریں گے جو امن کے امکانات کو کمزور کرتاہے۔ سابق حکومت نے مغربی یروشلم کو اسرائیلکے  دارالحکومت کے طور پر منظوری دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

یہ درست ہے لیکن ہم اس کی راجدھانی  تبدیل نہیں کرنے جا رہے ہیں  بلکہ اس پر غور کریں گے۔

قابل ذکر ہے کہ قدیم یروشلم شہر فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازعہ کے مرکز میں ہے۔ یہاں کے حالات میں معمولی سی تبدیلی بھی بعض اوقات پرتشدد کشیدگی اور بڑے جھگڑے کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

اس قدیم شہر میں یہودی، عیسائی اور مسلم مذاہب کے مقدس ترین مقامات ہیں۔ یہ شہر نہ صرف مذہبی اعتبار سے اہم ہے بلکہ سفارتی اور سیاسی لحاظ سے بھی بہت اہم ہے۔

زیادہ تر اسرائیلی یروشلم کو اپنا غیر منقسم دارالحکومت سمجھتے ہیں۔ اسرائیل ملک کا قیام 1948 میں ہوا تھا۔ اس کے بعد شہر کے مغربی حصے میں اسرائیلی پارلیمنٹ قائم کی گئی۔

اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں مشرقی یروشلم پر بھی قبضہ کیا تھا لیکن اسے بین الاقوامی سطح پر پذیرائی نہیں ملی۔ اس کے بعد قدیم شہر بھی اسرائیلیوں کے قبضے میں آگیا۔

Recommended