Urdu News

اسرائیلی بمباری میں بے گناہ فلسطینیوں کی موت، کیوں ہے پوری دنیا خاموش؟

غزہ پر اسرائیلی بمباری جاری

غزہ،14مئی (انڈیا نیرٹیو)

مصر کی ثالثی کی کوشش ناکام ہوگئی، غزہ میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ بندی نہ ہوسکی۔خبر ایجنسی کے مطابق غزہ میں اسرائیل کی بمباری سے 5 روز میں 31 فلسطینی شہید ہوئے۔فلسطینیوں کی جانب سے جواب میں اسرائیل پر گیارہ سو سے زائد راکٹ حملے کیے گئے ہیں۔رپورٹس کے مطابق اسرائیلی بمباری نے خوف و ہراس کا شکار 4 سالہ فلسطینی بچے کی بھی جان لے لی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ کے علاقے الریمل کا رہائشی 4 سالہ بچہ تمیم داؤد اس وقت اپنی جان کی بازی ہار گیا جب رات گئے اسرائیل کی جانب سے فلسطین پر بمباری کی گئی۔واضح رہے کہ 9 مئی سے اسرائیل کی جانب سے غزہ پر فضائی حملے جاری ہیں، شہداءمیں خواتین، بچے، بوڑھے افراد اور اسلامی جہاد تحریک کے کئی رہنما شامل ہیں۔

مصری ثالثی میں غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ

مصر کی ثالثی میں اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان طے پانے والا جنگ بندی کا معاہدہ ہفتہ کی رات نافذ العمل ہو گیا۔ فلسطینی اور مصری ذرائع نے قاہرہ کی سرپرستی میں جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان کیا تھا۔قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات کے قریبی ایک فلسطینی ذریعہ نے فرانس پریس کو تصدیق کی ہے کہ مصر کو فلسطینی اور اسرائیلی فریقوں سے جنگ بندی کی منظوری مل گئی ہے بشرطیکہ یہ شام دس بجے سے نافذ العمل ہو جائے۔

تحریک اسلامی جہاد کے ایک ذریعہ نے شناخت ظاہر نہ کرنے کو ترجیح دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیش کردہ فارمولہ معاہدے میں ترامیم مثبت ہیں اور مزاحمت کی شرائط کو پورا کرتی ہیں۔ عرب عالمی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں تحریک اسلامی جہاد کے ایک ذریعے نے ہفتہ کو بتایا کہ تحریک نے جنگ بندی کے لیے مصری فارمولے پر اتفاق کرلیا ہے۔

Recommended