Urdu News

عمران خان کے اسلام آباد مارچ میں ہنگامہ ، میٹروا سٹیشن نذر آتش، دس افراد جاں بحق

عمران خان کے اسلام آباد مارچ میں ہنگامہ

تشدد کراچی تک پہنچ گیا، کئی فوجی جواب بھی زخمی،اسلام آباد اور راولپنڈی کے تعلیمی ادارے بند

اسلام آباد، 26 مئی (انڈیا نیرٹیو)

پاکستان میں قبل از وقت انتخابات کے مطالبے کے لیے سابق وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے بلائے گئے اسلام آباد مارچ کے دوران جمعرات کو تشدد پھوٹ پڑا۔ اس دوران ایک میٹرو اسٹیشن کو آگ لگا دی گئی اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں دس افراد مارے گئے۔ کئی فوجیوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے بدھ کو اسلام آباد مارچ کا اعلان کرتے ہوئے حکومت پاکستان کو قبل از وقت انتخابات کے اعلان کے لیے چھ دن کا الٹی میٹم دیا تھا۔ قبل ازیں حکومت پاکستان نے اس پر پابندی عائد کر دی تھی لیکن پاکستان کی سپریم کورٹ نے نہ صرف آزادی مارچ کے لیے متبادل جگہ فراہم کرنے کی اجازت دی بلکہ عمران کی گرفتاری پر بھی پابندی لگا دی۔

اس کے باوجود عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں کو روکنے پر پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں کے درمیان پرتشدد تصادم ہوا۔ مشتعل افراد نے اسلام آباد کے میٹرو اسٹیشن کو آگ لگا دی۔ تشدد اس حد تک بڑھ گیا کہ دس افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کے بعد حکومت پاکستان نے اسلام آباد میں فوج کو تعینات کر دیا ہے۔ اس کے باوجود تشدد نہیں رکا۔ اسلام آباد کے ڈی چوک پر رات ڈھائی بجے فائرنگ ہوئی۔ جس کے بعد راولپنڈی اور اسلام آباد میں تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں۔ مرکزی سڑکوں پر ٹریفک بھی بند کر دی گئی ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا کہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں ان کی پارٹی کے 5 مظاہرین مارے گئے۔ مظاہرین میں سے ایک آنسو گیس کے گولوں کے درمیان پھنس جانے کے بعد پل سے گر گیا اور دوسرے کو دریائے راوی میں دھکیل دیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تشدد کراچی تک پہنچ گیا اور کہا کہ کراچی میں بھی ان کی پارٹی کے تین کارکن مارے گئے۔

Recommended