Urdu News

عمران دورہ چین سے مایوس، نیا قرضہ نہیں ملا ، پاکستان شدید مالی بحران کے شکار

عمران دورہ چین سے مایوس، نیا قرضہ نہیں ملا

بیجنگ، 7 فروری (انڈیا نیرٹیو)

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے دورہ چین کے حوالے سے بہت چرچا ہے۔ یہ دورہ زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوا۔ عمران کو اس دورے سے مایوسی ہوئی ہے، کیونکہ پاکستان کو چین سے نیا قرضہ بھی نہیں ملا۔

چینی صدر شی جن پنگ نے اتوار کے روز پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور پولینڈ کے صدر آندریج ڈوڈا سے ملاقات کرکے سرمائی اولمپکس کو سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔ جن پنگ نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے الگ الگ ملاقات کی۔ شدید معاشی بحران کا شکار پاکستان کو چین سے نیا قرض ملنے کی توقع تھی۔ بتایا گیا کہ عمران خان نے چینی صدر شی جن پنگ سے تین ارب ڈالر کے قرضے کی منظوری کی درخواست کی ہے لیکن پہلے ہی چینی قرضوں کے بوجھ تلے دبے پاکستان کو مزید قرضوں کی منظوری کی یقین دہانی ابھی تک موصول نہیں ہوئی ہے۔

تمام تر ملاقاتوں اور بات چیت کے باوجود پاکستان چین سے نیا قرض حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس دوران چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے دوسرے مرحلے میں ہونے والے کام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ CPECکے فیز Iکے بہت سے کام ابھی مکمل ہونا باقی ہیں۔ سی پیک پر کام تقریباً دو سال سے تعطل کا شکار ہے۔ پاکستان چین کی سرمایہ کاری کی رقم کا سود بھی ادا کرنے کے قابل نہیں ہے۔ عمران سے ملاقات میں چینی صدر شی جن پنگ نے اس یقین کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک مل کر تبدیلی لائیں گے اور چین اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک تعاون دنیا میں تبدیلی کا عنصر ثابت ہو گا۔ چین بین الاقوامی تعلقات میں مکمل انصاف اور شفافیت کو برقرار رکھتا ہے۔ چین کے پاکستان کے ساتھ بھی ایسے ہی تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی فورمز پر مل کر کام کریں گے۔

Recommended