Urdu News

ہندوستان کثرت میں وحدت کے اصول پرگامزن، اس کی رواداری قابل تعریف: شیخ محمد عبدالکریم العیسیٰ

سعودی عرب کے مشہور عالم دین اور مسلم ورلڈ لیگ (رابطہ عالم اسلامی) کے سکریٹری جنرل شیخ محمد عبدالکریم العیسیٰ

سعودی عرب کے مشہور عالم دین اور مسلم ورلڈ لیگ (رابطہ عالم اسلامی) کے سکریٹری جنرل شیخ محمد عبدالکریم العیسیٰ نے منگل کے روز کہا کہ ہندوستان ہمیشہ سے ‘کثرت میں وحدت’ کے اصول پر عمل کرنے والا ملک رہا ہے۔ ہندوستان کی رواداری کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہاں تمام مذاہب کے لوگ مل جل کر رہتے ہیں اور اپنے اپنے مذہب کی عبادت اور رسومات پر امن طریقے سے ادا کرتے ہیں۔ شیخ محمد نے یہ بات دہلی میں انڈیا اسلامک کلچر سینٹر میں منعقدہ ایک استقبالیہ میں کہی۔

رابطہ عالم اسلامی کے سکریٹری جنرل شیخ محمد ان دنوں ہندوستان کے چھ روزہ دورے پر ہیں۔ اس دوران منگل کو قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کی موجودگی میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک ہندو اکثریتی ملک ہے لیکن یہ ایک سیکولر ملک ہے جیسا کہ اس کے آئین میں بیان کیا گیا ہے۔ یہاں تنوع ہے لیکن لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی سے رہتے ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کو اپنی قومیت اور آئین پر فخر ہے۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اسلام امن اور ہم آہنگی کا پیغام دینے والا مذہب ہے۔ اسلام کے پیروکار ہمیشہ امن کی بات کرتے ہیں اور ہمیشہ امن کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی اسلام کے پیروکار ہیں وہ پرامن طریقے سے رہ رہے ہیں اور ہمیشہ دنیا کو امن کا پیغام دیتے رہے ہیں۔

شیخ نے کہا کہ ہندوستان میں بھی مسلمان ہمیشہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ امن اور ہم آہنگی کے ساتھ رہتے ہیں۔ یہ اسلام کا سب سے بڑا پیغام ہے جس کو قائم کرنے کے لئے مسلمان ہمیشہ سے کوشاں رہے ہیں۔ دنیا میں کوئی شخص تنہا نہیں رہ سکتا۔ اسے اپنی زندگی گزارنے کے لئے اپنے پڑوسیوں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ رہنا پڑے گا۔ تب ہی وہ اس زمین پر اپنی زندگی آسانی سے گزار سکتا ہے۔

اس موقع پر قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے کہا کہ ہندوستان کثرت میں وحدت کا پیغام دینے والا ملک ہے۔ ہم نے ہمیشہ یہاں تمام مذاہب کا احترام کیا ہے اور ہندوستان نے ہمیشہ پناہ گزینوں کو بھی پناہ دی ہے۔ انہیں عزت دی گئی ہے۔ ہندوستان میں تمام مذاہب کے لوگ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی سے رہتے آئے ہیں لیکن ہندوستان سمیت سعودی عرب بھی دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔ ہمارے ملک میں کئی دہشت گردانہ حملے ہوئے ہیں جن میں درجنوں بے گناہ لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ سعودی عرب بھی ایسے دہشت گردی کے واقعات سے اچھوتا نہیں ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ شیخ کی ہندوستان آمد کو یکساں سول کوڈ سے جوڑا جا رہا ہے اور یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ شیخ کے دورے کا مقصد ہندوستان میں مسلم دانشوروں اور علما کی یکساں سول کوڈ کی مخالفت کوکمزر کرنا ہے، لیکن آج اسلامک کلچر سینٹر میں شیخ کی تقریر سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی طرح سے اس مقصد سے ہندوستان نہیں آئے ہیں۔

اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے چیئرمین خالد سیف اللہ رحمانی اور جمعتہ علماء  ہند کے صدر اور رابطہ عالم اسلامی کے رکن مولانا ارشد مدنی نے شیخ کا ہندوستان پہنچنے پر خیرمقدم کیا۔ دونوں نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ شیخ کے بارے میں میڈیا میں جو باتیں پھیلائی جا رہی ہیں ان کا سچائی سے کوئی تعلق نہیں۔ شیخ ایک عالم دین ہیں اور وہ کبھی بھی شریعت و حدیث اور قرآن کے علاوہ بات نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم اس معاملے میں شیخ کے بارے میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن خبروں کی مخالفت کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ شیخ کے دورہ ہندوستان کے دوران ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں کوئی منفی تبصرہ نہیں کیا جائے گا۔

Recommended