Urdu News

تعلقات کی بہتری سے متعلق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے بیان پر ایران کا خیرمقدم

تعلقات کی بہتری سے متعلق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے بیان پر ایران کا خیرمقدم

تعلقات کی بہتری سے متعلق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے بیان پر ایران کا خیرمقدم

تہران،30اپریل(انڈیا نیرٹیو)

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی طرف سے تہران کےساتھ تعلقات بہتر بنانے سے متعلق بیان پر ایران نے خیرمقدم کیا ہے۔جمعرات کو ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے کہا کہ ریاض اور تہران تعمیری بات چیت کو اپنا سکتے ہیں اور اختلافات پر قابو پا سکتے ہیں۔خطیب زادہ نے بھی اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب اور ایران اسلامی دنیا کے اہم ممالک ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے سعودی اور ایرانی تعاون اہم ہے۔

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ٹیلی ویڑن انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کو پڑوسی ملک کی حیثیت سے دیکھتا ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاض تہران کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کا خواہش مند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ تہران کا منفی طرز عمل ہے۔ ایران اپنے متنازع جوہری پروگرام اور ملک سے باہر ایرانی ملیشیاﺅں کی مدد تہران کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھانے میں رکاوٹ ہے۔

جب ان سے ایران کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نےکہا کہ ایران ایک ہمسایہ ملک ہے اور ہمیں امید ہے کہ اس کے ساتھ اچھے تعلقات قائم ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ ایران کے ساتھ تعلقات خراب کریں، اس کے برعکس ہم چاہتے ہیں کہ ایران ترقی کرے۔ ہمارے مفادات ایران سے اور ایران کے سعودی عرب سے وابستہ ہیں۔ دو طرفہ تعلقات کو فروغ دے کر ہم خطے اور دنیا کو ترقی اور خوشحالی کی طرف راغب کر سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا مسئلہ ایران کے منفی رویے کا نتیجہ ہے خواہ اس کا جوہری پروگرام ہو یا خطے کے کچھ ممالک میں قانون سے باہر ملیشیاوں کی حمایت یا اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام ہو۔ یہ سب ہمارے لیے تعلقات کو آگے بڑھانے کی رکاوٹیں ہیں۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سعودی عرب ایران کے ساتھ اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے خطے اور دنیا میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سعودی عرب اپنی سرحدوں پر مسلح ملیشیاوں کی موجودگی کو قبول نہیں کرسکتا کیونکہ یہ مسلح گروپ کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوںنے یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی دعوت کا اعادہ کیا۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ حوثی باغیوں کا ایرانی حکومت کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ یمن میں آئینی حکومت کے خلاف حوثی بغاوت غیر قانونی ہے۔شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ حوثیوں کا ایرانی حکومت کے ساتھ گہرا تعلق ہے لیکن حوثی یمن ہی کے باشندے ہیں اوران کی شناخت یمن کے عرب باشندوں کے ساتھ ہے۔ مجھے امید ہے کہ یمن کے حوثی اپنےملک کے مفادات کو ہرچیز پرمقدم رکھیں گے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ حوثی مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر حل طلب مسائل کا حل تلاش کریں گے جو تمام یمنیوں کے حقوق کی ضمانت اور خطے کے ممالک کے مفادات کی ضمانت دیں۔ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مزید کہا کہ سعودی عرب اپنی سرحدوں پر خلاف قانون کسی مسلح تنظیم کے وجود کو قبول نہیں کرتا۔ حوثیوں کو جنگ بندی قبول کرنا ہوگی اور انہیں مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا۔

Recommended