Urdu News

کیا کورونا وائرس بنانے میں چین ہے ملوث؟امریکی سائنسدان نے کیا دعویٰ؟

کورونا وائرس، چین کی کارستانی

چین کے شہر ووہان میں کام کرچکے  امریکی سائنسدان اینڈریو ہف نے دعویٰ کیا ہے کہ پوری دنیا کو موت کے منہ میں دھکیلنے والا کورونا وائرس انسان کے ذریعہ  بنایا ہوا تھا۔ اس کے بعد پوری دنیا میں کورونا وائرس کے حوالے سے نئے چرچے ہونے لگے ہیں۔

مبینہ طورپر چین کو کورونا کا موجد مانا جا تا ہے اور دنیا بھر میں کورونا وبا کے  پھیلنے لئے  مسلسل اسے ذمہ دار قرار دیا جاتا رہا ہے۔ چین اس کی تردید کرتا رہا ہے اور یہاں تک کہ عالمی ادارہ صحت کو بھی اس معاملے پر نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایسا خیال کیا جا تا ہے کہ کورونا وائرس چین کے شہر ووہان کی ایک طبی لیبارٹری سے دنیا بھر میں پھیلاتھا۔ اب اسی طبی لیبارٹری ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی میں کام کرنے والے ایک امریکی سائنسدان نے چونکا دینے والا دعویٰ کیا ہے۔ وہاں کام کرنے والے وبائی امراض کے ماہر اینڈریو ہف نے اپنی نئی کتاب ‘دی ٹروتھ اباؤٹ ووہان’ میں کورونا وائرس کو انسان ساختہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

اینڈریو ہف کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس دو سال قبل ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی سے ہی لیک ہوا تھا۔ یہ لیبارٹری چینی حکومت کے ذریعہ  چلائی جاتی ہے اور اسے فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس انکشاف کے بعد پوری دنیا میں کورونا کے پھیلاؤ میں چین کے کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

کورونا وائرس کے انسان ساختہ ہونے کادعوی کرنے والے اینڈریو ہف نامی سائنسدان ایکو ہیلتھ الائنس کے نائب صدر بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے اس پیش رفت کو امریکہ پر 11 ستمبر 2001 کے دہشت گردانہ حملے کے بعد امریکی انٹیلی جنس ٹیم کی سب سے بڑی ناکامی قرار دیا ہے۔

Recommended