میانمار کے فوجی حکمران نے اب خود کو وزیر اعظم قرار دے دیا

https://urdu.indianarrative.com/Myanmar.jpg

میانمار کے فوجی حکمران

ینگون، 02 اگست (انڈیا نیرٹیو)

میانمار میں منتخب حکومت کا تختہ الٹنے والے جنرل نے اب خود کو ملک کا وزیراعظم قرار دے دیا ہے۔ اپنی ٹیلی ویژن تقریر میں، جنرل من آنگ وانگ نے اس امکان کا بھی اظہار کیا کہ ملک میں ایمرجنسی کی حالت کو مزید دو سال تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

اس سال فروری میں میانمار کی فوج نے ایک بغاوت میں آنگ سان سوچی کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ سوچی تب سے جیل میں ہیں اور ان کے خلاف فوجداری مقدمات زیر التوا ہیں۔ ان کی پارٹی این ایل ڈی اور دیگر تنظیمیں تختہ پلٹ کے بعد حکومت کی بحالی کے لیے احتجاج کر رہی تھیں۔ پرتشدد مظاہروں میں سینکڑوں لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور کئی زخمی اب بھی علاج کے لیے ہسپتالوں میں آ رہے ہیں۔

تازہ ترین پیش رفت میں، تقریبا ًایک گھنٹہ طویل تقریر میں، جنرل آنگ نے’آزاد اور منصفانہ کثیر جماعتی انتخابات‘ کرانے کا وعدہ کیا ہے۔ جنرل آنگ نے اصرار کیا کہ میانمار کی صورتحال ’مستحکم‘ہے اور انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) ایک ’دہشت گرد‘ تنظیم ہے۔ اسی لیے اسے اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا۔ ایسی صورت حال میں یہ بات یقینی ہے کہ اگر انتخابات ہوتے ہیں تو فوج سوچی کی پارٹی کو اس سے دور رکھنے کی کوشش کرے گی۔

جنرل آنگ نے مظاہرین کو ہر طرح سے ملک دشمن قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ اپنی تقریر میں، انہوں نے فوجی  تختہ پلٹ کے مخالفین کو ملک میں کوروناپھیلانے کا الزام بھی دیا ہے۔