Urdu News

پاکستان بھارت سے کپاس اور چینی درآمد نہیں کرے گا ،پھر چھیڑا کشمیر راگ

پاکستان بھارت سے کپاس اور چینی درآمد نہیں کرے گا ،پھر چھیڑا کشمیر راگ

نئی دہلی ، یکم اپریل (انڈیا نیرٹیو)

حکومت پاکستان نے کشمیر کا راگ الاپتے ہوئے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے بھارت سے 'کپاس' اور 'چینی' درآمد کرنے کی تجویز کو مسترد کردیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کشمیر میں خصوصی درجے کی واپسی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ ایس وائی قریشی نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ای سی سی کا فیصلہ تھا کہ بھارت سے چینی اور روئی درآمد کی جائے ۔ کابینہ میں اس پر غور کیا گیا اور فیصلہ فی الحال موخر کردیا گیا۔ اس پر مزید غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ آیا ہندوستان کے ساتھ تجارتی تعلقات معمول پر لائے جائیں یانہیں۔اس پر طے ہوا کہ جب تک بھارت کشمیر سے ارٹیکل 370منسوخ کرنے کے 5اگست 2019کے فیصلے کو واپس نہیں لیتا ہے ، تب تک رشتوں کو معمول پر لانا درست نہیں ہوگا۔ 

اسی دوران ، پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلہ ملتوی کردیا گیا ہے اور جب تک کشمیر میں 370 کی حیثیت بحال نہیں ہوگی۔ اس پر غور نہیں کیا جائے گا۔واضح ہو کہ اس سے قبل ، کمیٹی نے بھارت سے 'سوتی دھاگے اور چینی' درآمد کرنے کے لئے اپنی ہری جھنڈی دی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سوتی دھاگے کی وجہ سے کپڑوں کی صنعتی پیداوار کم ہورہی ہے۔ خام مال کی کمی کو پورا کرنے کے لئے بھارت سے کپاس درآمد کرنے پر غور کیا گیا تھا۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی ای سی سی کے اس فیصلے پر حزب اختلاف کی جماعتوں اور صحافیوں کی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑاتھا۔2019 میں جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بعد پاکستان نے بھارت کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات معطل کردیئے تھے۔ حالانکہ پچھلے سال مئی میں ، کووڈ 19 کے دوران ضروری ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے پاکستان نے دوائیوں اور اس سے متعلق خام مال کی درآمد پر پابندی ختم کردی تھی۔

حالیہ دنوں میں ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات میں تلخی قدرے کم ہوئی ہے۔ حال ہی میں ، وزیر اعظم مودی نے عمران خان کو یوم پاکستان کی مبارک باد پیش کی تھی ، جس کے جواب میں عمران خان نے بھی شکریہ کا خط لکھا تھا۔

Recommended