Urdu News

‏‏ ترکمانستان کے دورے کے دوران صدر جمہوریہ ہند جناب رام ناتھ کووند کا پریس کو دیا گیا بیان‏

صدر جمہوریہ ہند جناب رام ناتھ کووند اور عزت مآب صدر‏‏ ترکمانستان جناب سردار بردی محمدوف

 

عزت مآب صدر جناب سردار بردی محمدوف،

عزت مآب، خواتین و حضرات،

  1. یہ بھارت کے کسی صدر کا ترکمانستان کا پہلا دورہ ہے اور ترکمانستان کے نئے اور نوجوان رہ نما کی میزبانی میں ہونے والا پہلا دورہ بھی ہے۔ میں ترکمانستان کے عزت مآب صدر کا میری اور میرے وفد کے پرتپاک استقبال اور فیاضانہ مہمان نوازی پر ستائش اور شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ کا یہ اظہاریہ ہماری دونوں عظیم قوموں کے درمیان درخشاں دوستی کا غماز ہے۔
  2. دوسرا سنگ میل یہ ہے کہ یہ بھارت اور ترکمانستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 30ویں سالگرہ کا موقع ہے۔ ہمارے گذشتہ تین دہائیوں اور خاص طور پر گذشتہ دہائی میں اپنے ہمہ جہت دو طرفہ تعلقات کی ترقی سے مطمئن ہونے کی عمدہ وجوہات ہیں۔

خواتین و حضرات،

  1. ترکمانستان کے صدر سے آج ملاقات کے دوران ہم نے ریاست اور دو طرفہ تعلقات کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ہم نے اہمیت کے مختلف علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا۔ ہم نے اپنی ہمہ جہت شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
  2. اقتصادی تعلقات سے دو طرفہ تعلقات مضبوط ہوں گے۔ ہم نے دو طرفہ تجارت کو وسعت دینے کے لیے مزید کام کرنے پر اتفاق کیا جو معمولی رہا ہے۔ ہماری کاروباری برادریوں کو اپنی مشغولیت کو گہرا کرنا ہوگا، ایک دوسرے کے ضوابط کو سمجھنا ہوگا اور تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے شعبوں کی نشان دہی کرنی ہوگی۔
  3. مجھے یقین ہے کہ آج بھارت کے فنانشل انٹیلی جنس یونٹ اور ترکمانستان کی فنانشل مانیٹرنگ سروس کے درمیان ہونے والے مفاہمت نامے سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے فریم ورک کو تقویت ملے گی۔
  4. کسی بھی تجارتی نظم کے لیے کنکٹیویٹی انتہائی اہم ہے۔ اس مقصد کے لیے ہم نے بین الاقوامی شمال جنوبی ٹرانسپورٹ راہداری (آئی این ایس ٹی سی) اور بین الاقوامی ٹرانسپورٹ اور ٹرانزٹ راہداری سے متعلق اشک آباد معاہدے کی اہمیت اجاگر کی۔ میں نے نشان دہی کی کہ ایران میں بھارت کی تعمیر کردہ چابہار بندرگاہ کو بھارت اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارت کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
  5. توانائی میں تعاون آج ہماری بات چیت کا ایک اہم موضوع تھا۔ ٹی اے پی آئی پائپ لائن کے بارے میں میں نے تجویز پیش کی کہ پائپ لائن کی سلامتی اور اہم کاروباری اصولوں سے متعلق امور کو تکنیکی اور ماہرین کی سطح کے اجلاسوں میں حل کیا جاسکتا ہے۔
  6. ہم نے تعاون کے نئے شعبوں کی بھی نشان دہی کی ہے جیسے آفات سماوی سے نمٹنا جس پر ہم نے آج ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے ہیں۔ میں نے ڈیجیٹلائزیشن کی طرف مہم میں ترکمانستان کے ساتھ شراکت داری کے لیے بھارت کی تیاری سے آگاہ کیا۔ خلا باہمی فائدہ مند تعاون کا ایک اور شعبہ ہوسکتا ہے۔
  7. ہمارے ممالک صدیوں پرانے تہذیبی اور ثقافتی رشتے رکھتے ہیں۔ بات چیت کے دوران میں نے ایک دوسرے کے علاقے میں باقاعدہ ثقافتی تقریبات کے انعقاد کی اہمیت پر زور دیا۔ مجھے یقین ہے کہ آج دستخط کردہ 2022-25 کی مدت کے لیے ثقافت اور فنون لطیفہ پر تعاون کا پروگرام ہمارے ثقافتی تعاون کو نئی سمت دے گا۔
  8. ہم نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو کوویڈ-19 وبا کے موثر انتظام پر قریبی تعاون کرنے کی ضرورت ہے جس نے ہماری آبادی کو متاثر کیا ہے۔ میں نے تجویز پیش کی کہ دونوں ممالک کی جانب سے کوویڈ ٹیکہ کاری سرٹیفکیٹ کو باہمی طور پر تسلیم کرنے سے ہمارے شہریوں کے سفر کو آسان بنانے میں بہت مدد ملے گی۔
  9. ترکمانستان بھارت کے لیے بھارت- وسطی ایشیا سربراہ اجلاس کے فریم ورک میں ایک اہم شراکت دار ہے، جس کے پہلے اجلاس کی بھارت نے اس سال جنوری میں ورچوئل وسیلے سے میزبانی کی تھی۔ ہم نے بھارت وسطی ایشیا سربراہ اجلاس سے جاری فریم ورک کے تحت تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔
  10. ہم ترکمانستان کی جانب سے بھارت وسطی ایشیا ثقافتی تعاون کے تحت نوجوانوں کا وفد بھارت بھیجنے کی آمادگی پر خیرمقدم کرتے ہیں۔ آج نوجوانوں کے امور پر دستخط کردہ مفاہمت نامے سے ہمارے نوجوانوں کے درمیان تبادلے کے پروگرام میں مزید تیزی آئے گی۔
  11. ہماری بات چیت میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ہم بین الاقوامی اہمیت کے امور پر اقوام متحدہ سمیت علاقائی اور کثیر الجہتی فورموں میں تعاون جاری رکھیں گے۔ میں نے ترکمانستان کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے اقوام متحدہ کی توسیع شدہ سلامتی کونسل میں اصلاحات اور بھارت کی مستقل رکنیت کے ساتھ ساتھ 2021-22 کی مدت کے لیے یو این ایس سی کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے بھارت کے اقدامات کی حمایت کی۔
  12. افغانستان کے قریبی ہمسایہ ممالک کی حیثیت سے ہمارے ممالک فطری طور پر اس ملک کے اندر ہونے والی پیش رفت اور ان کے بیرونی اثرات کے بارے میں فکر مند ہیں۔ ہم افغانستان سے متعلق امور پر وسیع تر 'علاقائی اتفاق رائے' رکھتے ہیں جس میں حقیقی معنوں میں نمائندہ اور جامع حکومت کی تشکیل، دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کا مقابلہ، اقوام متحدہ کا مرکزی کردار، افغانستان کے عوام کو فوری انسانی امداد فراہم کرنا اور خواتین، بچوں اور دیگر قومی نسلی گروہوں اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ شامل ہے۔

عزت مآب، خواتین و حضرات اور میڈیا کے ارکان

  1. میں جلد ہی باہمی سہولت کی تاریخ پر بھارت میں صدر جناب سردار بردی محمدوف کا خیرمقدم کرنے کے لیے بیتاب ہوں۔
  2. اور کیا میں یہ کہہ کر اپنی بات ختم کر سکتا ہوں کہ میں اور میرا وفد اشک آباد کے خوب صورت اور حیرت انگیز "سفید سنگ مرمر" کے شہر سے کس قدر متاثر ہوئے ہیں۔

آپ کا بہت شکريہ۔

Recommended