Urdu News

سعودی عرب کا افغانستان کے لیے ایک ارب ریال مالیت کے فنڈ فراہمی کا اعلان

سعودی عرب کا افغانستان کے لیے ایک ارب ریال مالیت کے فنڈ فراہمی کا اعلان

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اسلامی تعاون تنظیم ”او آئی سی“ کے وزرائے خارجہ کی کونسل 17ویں اجلاس کے سے خطاب کہا کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ان کا ملک انسانی بحران میں گھرے افغانستان کے لیے ایک ارب سعودی ریال کے فنڈز دے گا۔یہ اعلان سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے اتوار کو اسلام آباد میں سعودی عرب کی جانب سے بلائے گئے اجلاس کے دوران خطاب میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین اور بچوں سمیت افغان عوام مشکلات کا شکار ہیں، وہ مدد کے منتظر ہیں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں کشیدہ صورت حال کے خطے اور دنیا پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ’ہم افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے اجلاس میں شرکت پر سکریٹری جنرل او آئی سی اور دیگر نمائندوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں معاشی بحران مزید خراب ہو سکتا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ کے مطابق افغانستان کا معاملہ انسانی بنیادوں پر دیکھنا ہوگا۔ یہ بے شک ایک غیر معمولی اجلاس ہے جو کہ افغان عوام کی تکالیف کے حل کے لیے بلایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی حالات نے افغانستان میں نہ صرف ایک انسانی المیہ کو جنم دیا ہے بلکہ وہ مکمل تباہی کی جانب بھی جا سکتے ہیں۔ ’او آئی سی کی چھتری تلے ہم مل کر مشترکہ اقدام کر سکتے ہیں۔‘سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ افغان عوام کا اتحاد ہی ان کے سلامتی اور بیرونی مداخلت کے خاتمے کا حل ہے۔ ’ہماری تنظیم کو اس حوالے سے مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے۔ سعودی سلطنت نے مختلف طریقوں سے افغانستان امداد کی ہے۔ ہم افغانستان کے لیے ایک ارب سعودی ریال کا فنڈ فراہم کر رہے ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے بہتر مستقبل کے لیے عالمی برادری کو آگے بڑھنا ہو گا۔ سعودی عرب افغانستان مین اقلیتوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتا ہے۔

فیصل بن فرحان کا کہنا تھا کہ عالمی ادارے افغان عوام کی مدد کے لیے آگے بڑھیں۔ انعقاد اور بہترین انتظامات پر پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ پاکستان نے کم ترین وقت میں اجلاس کا انعقاد کیا اور اہم ترین اجلاس کے انعقاد پر پاکستان کے مشکور ہیں۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں شرکت پر او آئی سی سیکرٹری جنرل اور دیگر کے شکر گزار ہیں۔ افغانستان کے معاملے کو انسانی بنیادوں پر دیکھنا ہو گا کیونکہ افغانستان میں خواتین، بچوں سمیت افغان عوام مشکلات کا شکار ہیں اور افغانستان میں معاشی بحران مزید خراب ہو سکتا ہے۔ افغانستان کے عوام ہماری مدد کے منتظر ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال کو انسانی بنیادوں پر دیکھا جائے۔ ’خواتین اور بچوں سمیت افغان عوام مشکلات کا شکار ہیں۔ معاشی بحران سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔‘ سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ افغانستان کو دہشت گردوں اور شدت پسند گروپس کی پناہ گاہ کے طور پر نہ استعمال کیا جائے۔‘

انہوں نے افغانستان میں داعش کے دہشت گرد حملوں کی بھی مذمت کی۔ سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال افراتفری پر منتج ہو سکتی ہے جو خطے اور دنیا کو متاثر کرے گی۔

Recommended