Urdu News

یمن بحران کے سیاسی حل کے لیے سعودی عرب کا موقف واضح ہے: امریکہ

یمن بحران کے سیاسی حل کے لیے سعودی عرب کا موقف واضح ہے

امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے اتوار کے روزایک بیان میں زور دے کر کہا ہے کہ یمن کے بحران کے سیاسی حل کے حوالے سے سعودی عرب کےموقف میں کوئی ابہام نہیں۔ سعودی عرب کایمن کے بحران کے حل کے حوالے سے موقف واضح ہے۔قبل ازیں ہفتے کے روز مسٹر بلنکن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ یمن کے بحران کا سیاسی حل امریکا کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے یمن کے مسئلے کے حل کےلیے تمام اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عہد کیا اور کہا کہ امریکا یمن کی حکومت کی طرف سے بحران کے سیاسی حل پر قائم رہنے کا خیر مقدم کرتی ہے۔

ادھرسعودی عرب کی طرف سے یمن میں جاری بحران کے حل کےلیے پیش کردہ اقدام پر سلامتی کونسل کے خیر مقدم کے بعد یورپی یونین نے بھی کہا ہے کہ وہ یمن میں جاری تنازع کے سیاسی حل کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہیں۔اتوارکو ایک بیان میں یورپی یونین نے کہا کہ سعودی عرب کی طرف سے یمن کے بحران کے حل کےلیے پیش کردہ اقدام کا اہم پہلو اقوام متحدہ کی زیرنگرانی یمن میں جنگ بندی اور یمن کے فضائی اور بحری روٹس کھولنےکا اعلان ہے۔یورپی یونین کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آئندہ بدھ کو یمن کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی مارٹن گریفیتھس متحارب یمنی فریقین سے بات چیت کے لیے یمن پہنچ رہے ہیں۔

قبل ازیں امریکی وزارت خارجہ نے یمن کے تمام متحارب فریقین پر زور دیا تھا کہ وہ سعودی عرب کے پیش کردہ امن فارمولے کو آگےبڑھانے کے لیے تعاون کریں۔ امریکی وزارت خارجہ کےترجمانن سمویل وربیرگ نے کہا تھا کہ ان کا ملک یمن کی آئینی حکومت ک اور سعودی عرب کے پیش کردہ امن فارمولے کی حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن کے بحران کا حل انارکی نہیں بلکہ تمام فریقین کے درمیان بات چیت سے ممکن ہے۔چند ماہ قبل سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ نے یمن کی جنگ کے خاتمے کی طرف اہم پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے یمن میں جامع جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ سعودی عرب کے اس اعلان پر عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی طرف سے خیر مقدم کیا گیا۔

برطانیہ سعودی عرب کے ساتھ سیکورٹی شراکت کو مزید فروغ دینے کاخواہاں

برطانیہ کے وزیر مملکت برائے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقا امور جیمز کلیفرلی نے کہا ہے کہ ان کا ملک سعودی عرب کے ساتھ مختلف شعبوں میں شراکت کو وسعت دینے کا خواہاں ہے۔اپنے دورہ سعودی عرب سے قبل ٹویٹر پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں کہا کہ الریاض کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں ماحولیاتی کانفرنس، سیکیورٹی، تجارت اور دیگر امور پر بات چیت کی جائے گی۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ سعودی عرب کے دورے کی تیاری کررہے ہیں۔

خیال رہے کہ ماحولیاتی کانفرنس رواں سال یکم سے 12 نومنر کے درمیان اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسکو میں منعقد ہوگی۔ 21 مارچ 1994ءکے بعد یہ 26 ویں سالانہ ماحولیاتی کانفرنس ہوگی۔برطانیہ نے رواں سال مارچ میں کہا تھا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ سیکیورٹی شراکت کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔برطانوی حکومت کا کہنا تھا کہ رواں عشرے کے آخر تک کسی قسم کی حیاتیاتی یا جوہری حملے کو روکنے اور دہشت گردی کے خطرے کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔گذشتہ ہفتے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ نے دورہ برطانیہ کے دوران اپنے برطانوی ہم منصب ڈومینک راپ سے ملاقات کی تھی۔

Recommended