Urdu News

میانمار میں مظاہرین پر فائرنگ اور بغاوت کے خلاف اقوام متحدہ میں آواز اٹھانے والے سفیر برطرف

میانمار میں مظاہرین پر فائرنگ اور بغاوت کے خلاف اقوام متحدہ میں آواز اٹھانے والے سفیر برطرف


 میانمار میں مظاہرین پر فائرنگ اور بغاوت کے خلاف اقوام متحدہ میں آواز اٹھانے والے سفیر برطرف

گزشتہ روزمیانمار کے مختلف حصوں میں بغاوت کے خلاف احتجاج کرنے والے لوگوں پر پولیس نے فائرنگ کردی۔ اس میں 18 افراد ہلاک اور 30سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے ۔

اسی دوران ، اقوام متحدہ میں فوج کے خلاف آواز اٹھانے والے میانمار کے سفیر کیوموتون کو برخاست کردیا گیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے فوجی حکمرانی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے جمہوری نظام کو فوری طور پر بحال کرنے کی اپیل کی تھی۔

اتوار کے روز ، سب سے بڑے شہر ینگون سمیت ملک کے مختلف حصوں میں لوگ بغاوت کے خلاف احتجاج کرنے سڑکوں پر نکل آئے۔مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے متعدد مقامات پر پولیس نے دستی بم ، آنسو گیس کے گولے اور ہوائی فائرنگ کی۔ جب مظاہرین نے ٹس سے مس نہیں ہوئے تو پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کو نشانہ بنایا۔

اسی دوران ، پولیس نے ینگون میں اساتذہ کے مظاہرہ کو منتشر کرنے کے لیے اسٹین گرینیڈ کا استعمال کیا ، جس کی وجہ سے ایک خاتون ٹیچر کو دل کا دورہ پڑا اور فوری طور پر اس کی موت ہوگئی۔ ینگون کے ایک اور علاقے میں پولیس کی فائرنگ سے تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

میانمار کے میڈیا نے منڈالے میں دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔ ینگون میڈیکل اسکول کے باہر پولیس نے اسٹین دستی بم بھی پھینکے۔ ڈاکٹروں کی تنظیم ’وائٹ کوٹ الائنس آف میڈکس‘ نے بتایا کہ پچاس سے زیادہ صحت کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ دوسرے شہروں میں بھی احتجاج کی اطلاع ملی ہے۔

میانمار، سیکورٹی فورسز کا مظاہرین پر بدترین تشدد

میانمار میں آج بھی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔گزشتہ روز سیکورٹی فورسز کے تشدد میں 18 مظاہرین ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے جب کہ احتجاج میں شریک270 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔سیکورٹی فورسز کے بدترین تشدد کے بعد مظاہرین ایک بار پھر سڑکوں پر موجود ہیں جب کہ لاشیو ٹاؤن میں مظاہرین سڑکوں پر جمع ہوئے اور فوجی بغاوت کیخلاف نعرے بازی کی۔

ینگون میں احتجاجی مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں تقریبات ہوئیں۔ قبل ازیںمیانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر پولیس نے فائرنگ کی، جس سے 18 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔میانمار میں ینگون سمیت مختلف شہروں میں فوجی بغاوت کے خلاف عوام کے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین پر پولیس نےفائرنگ کی، ربڑ کی گولیوں اور آنسوگیس کا بھی استعمال کیا گیا، جس سے 30 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔

اس کے علاوہ مظاہرین کے خلاف کریک ڈاون میں سیکڑوں افراد گرفتار کرلیے گئے۔ اقوام متحدہ، امریکہ، برطانیہ نے میانمار میں سیکورٹی فورسز کے پرتشدد کریک ڈاو ٔن کی پر زور مذمت کی ہے۔امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے میانمار کے فوجی لیڈروں کیخلاف مزید پابندیاں لگنے کا اشارہ بھی دیا ہے۔دوسری جانب آنگ سان سوچی کیخلاف کیس کی سماعت بھی آج ہونی ہے۔

اقوام متحدہ کا میانمار میں مظاہرین پر طاقت کا استعمال روکنے کا مطالبہ

برطانیہ اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف سراپا احتجاج پرامن مظاہرین پر طاقت کےاستعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے میانمار کی فوج سے طاقت کا استعمال فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔برطانوی دفتر خارجہ اور اقوام متحدہ انسانی حقوق دفتر نے میانمار میں مظاہرین کے خلاف پرتشدد کارروائی کو انتہائی ناگوار اور قابل مذمت عمل قرار دیتے ہوئے فوج سے طاقت کا استعمال روکنے اور جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

 ترجمان برطانوی دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ برطانیہ نے امریکا اور کینیڈا کے ساتھ مل کر میانمار میں فوجی بغاوت کےخلاف اقدام کیا ہے اور میانمار کے کمانڈر ان چیف سمیت نو فوجی افسران پر انسانی حقوق کی پابندیاں لگائی ہیں۔

میانمار میں سو چی کو مزیددو دیگر الزامات کا سامنا ، مظاہرے میں شدت

پیر کو میانمار کی ایک عدالت میں آنگ سان سوچی کے خلاف دو دیگر مقدمات درج کیے گئے ۔سوچی کی وکیل نے بتایا کہ وہ پیر کو دارالحکومت نیپیٹا سے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئی۔ وہ ٹھیک لگ رہی تھی۔

در حقیقت ، نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی پارٹی کے رہنما کو 01 فروری کو فوجی بغاوت کے بعد تحویل میں لیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر رہنماوں کو بھی حراست میں لیا گیا۔ 

پیر کو سوچی پرمزید دو الزامات لگائے گئے ہیں۔ پہلا الزام یہ ہے کہ اس نے چھ واکی ٹاکی درآمد کیں اور دوسرا الزام یہ ہے کہ اس نے کورونا کے لئے بنائے گئے قواعد کی خلاف ورزی کی۔ سوچی کی وکیل من من سونے بتایاکہ نوآبادیاتی دور کے پینل کوڈکے تحت ایسی اطلاعات کوعام کرنے پرپابندی لگائی گئی ہے جس سے ماحول مکدرہوتاہو،یاامن میں خلل پڑتاہو ۔ دوسرا ایک اور الزام ٹیلی کام ایکٹ کے تحت عائد کیا گیا ہے ، جو سامان کے لائسنس دینے سے متعلق ہے۔ اس معاملے میں آئندہ سماعت 15 مارچ کو ہوگی۔

قابل ذکر ہے کہ میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد سے ہی ہر طرح کا سرکاری اختیار فوجی کنٹرول میں آچکا ہے اور آنگ سان سوچی اور دیگر رہنماوں کو تحویل میں لیا گیا ہے۔ لوگ اس کے خلاف احتجاج کرنے سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔

Recommended