Urdu News

لڑکیوں کی تعلیم پر طالبان کی پابندی کو واپس نہ لیا گیا تو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا، اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ڈیبورا لیونزکا بیان

لڑکیوں کی تعلیم پر طالبان کی پابندی کو واپس نہ لیا گیا تو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا

طالبان کی جانب سے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے فیصلے کو واپس نہ لینے کی صورت میں افغانستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ یہ بات اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ ڈیبورا لیونز نے قطر میں طالبان کے ایک رکن سہیل شاہین سے ملاقات میں کہی۔افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن نے ٹویٹر پر لکھا کہ لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں طالبان کے فیصلے سے افغانستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا ۔اگر  طالبان نے اپنا  فیصلہ  واپس نہ لیا  تو اسے ناقابل تلافی نقصان جھیلنا پڑے گا۔

یو این اے ایم اے نے طالبان کے اس اعلان پر افسوس کا اظہار کیا کہ وہ چھٹی جماعت سے اوپر کی طالبات کو اسکول واپس جانے کی اجازت دینے پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی کو بڑھا رہے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ افغانستان میں نیا تعلیمی سال شروع ہوتے ہی طالبان نے اعلان کیا ہے کہ لڑکے اپنی تعلیم معمول کے مطابق جاری رکھ سکتے ہیں تاہم چھٹی جماعت سے آگے کی لڑکیوں کے لیے سکولوں کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔

قبل ازیں طالبان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے سے ملاقات کی اور انسانی حقوق، انسانی امداد، ترقیاتی منصوبوں، بینکنگ سیکٹر، اقتصادی ترقی اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا۔ طالبان کی جانب سے لڑکیوں کے اسکولوں کو بند کرنے کے فیصلے کے خلاف جمعہ کو کابل میں درجنوں طالبات نے ریلی نکالی۔

Recommended