Urdu News

امریکی صدر جو بائیڈن اور خاتون اول نے مسلمانوں کو پیش کی رمضان کی مبارک باد

امریکی صدر جو بائیڈن اور خاتون اول نے مسلمانوں کو پیش کی رمضان کی مبارک باد

امریکی صدر جو بائیڈن اور خاتون اول نے مسلمانوں کو پیش کی رمضان کی مبارک باد

واشنگٹن،14اپریل(انڈیا نیرٹیو)

رمضان المبارک کے مقدس مہینہ کے موقع پر امریکی صدر جو بائیڈن اور خاتون اول جِل بائیڈن نے مسلمانوں کو مبارک باد پیش کی ہے۔ انہوں نے ایک خصوصی بیان میں مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملک میں موجود مسلم کمیونٹی کی شراکت کے ساتھ ساتھ اس کے اراکین کو درپیش مشکلات کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ”جِل اور میں امریکہ اور دنیا بھر میں موجود مسلم طبقے کو اپنی گرم جوش مبارک باد اور نیک تمنائیں بھیجتے ہیں، رمضان کریم۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق جو بائیڈن نے کہا کہ 'جیسا کہ ہمارے بہت سے ساتھی امریکی کل سے روزہ رکھنے کا آغاز کریں گے، ہمیں یہ بات یاد آئی کہ یہ سال کس قدر مشکل گزرا'۔ انہوں نے کہا کہ 'اس عالمی وبا میں دوست اور پیارے ابھی تک خوشیاں منانے اور اجتماع میں اکٹھے نہیں ہوسکتے ہیں اور اب تک بہت سارے گھرانے اپنے کھو جانے والے پیاروں کے بغیر افطار کے لیے بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 'اس کے باوجود ہماری مسلمان کمیونٹیز اس ماہ کا آغاز نئی امید کے ساتھ کرتی ہیں'۔جو بائیڈن نے اپنے بیان میں اس بارے میں بھی بات کی کہ مسلم امریکیوں نے ملک کے قیام کے بعد سے ہی ریاستہائے متحدہ امریکہ کو کس طرح تقویت بخشی۔

 امریکی صدر نے کہا کہ 'وہ اتنے ہی متنوع اور متحرک ہیں جیسے امریکہ کی تعمیر میں انہوں نے مدد کی، آج مسلمان کووِڈ۔ 19 کے خلاف ہماری لڑائی میں آگے ہیں اور ویکسین کی تیاری اور صف اول کے طبی کارکنان کے طور اہم کردار ادا کر رہے ہیں'۔انہوں نے مسلمانوں کی ستائش کرتے ہوئے بیان میں مزید کہا گیا کہ 'مسلمان انٹرپرینیور اور کاروباری مالکان کی حیثیت سے روزگار پیدا کر رہے ہیں، صف اول کے دستوں کے طور پر اپنی زندگی خطرے میں ڈال رہے ہیں، ہمارے اسکولوں میں پڑھا رہے ہیں، ملک بھر میں پرعزم سرکاری ملازمین کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور نسلی مساوات اور معاشرتی انصاف کے لیے جاری ہماری جاری جدوجہد میں قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں'۔

امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ غنڈہ گردی، تعصب اور نفرت انگیز جرائم کے ذریعے مسلم امریکیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تعصب اور حملے غلط ہیں، ناقابل قبول ہیں اور انہیں لازماً رکنا چاہیے، کسی امریکی کو اپنے عقیدے کے باعث خوف میں زندگی نہیں گزارنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میری حکومت تمام عوام کے تحفظ اور حقوق کی حفاظت کے لیے انتھک کام کرے گی۔امریکی صدر نے کہا کہ 'جیسا کہ ہم انہیں یاد کر رہے ہیں جنہیں گزشتہ رمضان سے اب تک کھو چکے ہیں ہم روشن دنوں کے لیے بھی پرامید ہیں'۔ 'انہوں نے کہا کہ قرآن پاک ہمیں یاد دلاتا ہے کہ 'خدا زمین و آسمان کا نور ہے' جو ہمیں اندھیرے سے روشنی میں لے جاتا ہے۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ حالانکہ اس رمضان میں وائٹ ہاؤس کی تقریبات کا انعقاد ورچوئلی ہوگا، جِل اور میں اگلے سال ذاتی طور پر وائٹ ہاؤس کی روایتی عید کی خوشی منانے کے منتظر ہیں، انشا اللہ'۔

Recommended