Urdu News

سنکیانگ میں مارکسزم انسٹی ٹیوٹ کے سیکریٹری سمیت 20اویغوراساتذہ گرفتار

سنکیانگ میں مارکسزم انسٹی ٹیوٹ کے سیکریٹری سمیت 20اویغوراساتذہ گرفتار

 بیجنگ، 13؍مئی

شمال مغربی چین کے صوبے سنکیانگ کی ایک یونیورسٹی کے 20 سے زائد ایغور اساتذہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔  یہ اطلاع   مقامی میڈیا نے دی ہے۔ ان 20 اویغور اساتذہ میں چینی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) کے سکول کے مارکسزم انسٹی ٹیوٹ کے سیکرٹری بھی شامل ہیں۔ ریڈیو فری ایشیا   نے غلجا قصبے کے ایک ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی۔

مارکسزم انسٹی ٹیوٹ کے عبداللہ اسماعیل سمیت کل چھ اساتذہ کو حراست میں رکھا گیا ہے۔  عبداللہ اسماعیل کو 2018 میں اغوا کیا گیا تھا اور ان پر "دو چہرے" ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔  آر ایف اے کے مطابق، سی سی پی اس اصطلاح کو کسی ایسے عہدیدار یا پارٹی رکن کی وضاحت کے لیے استعمال کرتا ہے جو یا تو بدعنوان یا نظریاتی طور پر پارٹی سے بے وفا ہو۔

عبداللہ اسماعیل کے ہائی اسکول کے سابق ہم جماعت پرہت قادر نے کہا کہ اسماعیل کو ہائی اسکول میں بہت پسند کیا جاتا تھا، جو ڈچ ایسٹ ترکستان ایغور یونین کے سابق چیئرمین ہیں۔ انہوں نے آر ایف اے کو بتایا کہ عبداللہ پہلی سے دسویں جماعت تک میرا ہم جماعت تھا۔وہ ایک ایماندار اور محنتی بچہ تھا۔

عبداللہ اسماعیل 1962 میں غلجا کی سوئیڈونگ بستی میں پیدا ہوئے۔  انہیں 1981 میں ایلی پیڈاگوجیکل یونیورسٹی کے شعبہ ادب میں داخلہ دیا گیا۔ اسماعیل نے مارکسی نظریہ پر تحقیقی مقالے کئی اخبارات اور رسائل میں شائع کیے جن میں الی گزٹ بھی شامل ہے۔ آر ایف اے کے مطابق، اسماعیل کو بعد میں 2017 میں مشتبہ افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا جب چین نے ایغوروں کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی لائی۔  رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس پر کئی مجرمانہ الزامات عائد کیے گئے تھے، حالانکہ ذریعہ نے ان کا نام نہیں لیا۔

Recommended