Urdu News

نائب صدر جمہوریہ نے بھارت۔قطر اقتصادی شراکت داری کی ستائش کی

نائب صدر جمہوریہ جناب ایم وینکیا نائیڈو

 

 

نائب صدر جمہوریہ جناب ایم وینکیا نائیڈو نے بھارت-قطر تعلقات کی مضبوطی پر روشنی ڈالی اور باہمی مفاد کے لیے ایک سازگار ماحول بنانے اور مزید تعاون کو فروغ دینے کی اپیل کی۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ دونوں ممالک کے درمیان صدیوں میں پروان چڑھنے والےخصوصی  تعلقات ہیں، جناب نائیڈو نے مضبوط شراکت داری کو مزید تقویت دینے اور ٹریڈ باسکٹ کو متنوع بنانے پر زور دیا، جس پر آج کل  توانائی سے متعلق مصنوعات کا غلبہ ہے۔

دوحہ، قطر میں گزشتہ روز  ہند-قطر بزنس فورم کے دوران قطر کے تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے، جناب نائیڈو نے حالیہ برسوں میں بھارت کی کامیابیوں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ’’ترقی کا مرکز مغرب سے ایشیا کے خطے میں منتقل ہوا ہے  اور بھارت اس ترقی کے مضبوط ڈرائیور کےطور پر ابھر کر سامنے آیا ہے‘‘۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارتی حکومت کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بنا رہی ہے اور بتایا کہ 2021 میں  عالمی وبا کے دوران بھی 25 ہزار سے زیادہ شرائط و ضوابط  کو ختم کیا۔

جناب نائیڈو نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ بھارت-قطر نے 2021-22 میں 15 بلین امریکی ڈالر کے نئے سنگ میل کو حاصل کیا ہے اور کہا کہ قطر میں رجسٹرڈ بھارتی کاروباروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے جو 15,000 سے تجاوز کر گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں قطر سے بھارت میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

اس موقع پر، نائب صدر جمہوریہ نے ’’انڈیا-قطر اسٹارٹ اپ برج‘‘ کا آغاز کیا جس کا مقصد دونوں ممالک کے اسٹارٹ اپ  ایکو سسٹم کو جوڑنا ہے۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ بھارت اختراع کے ماحول کو فروغ دے رہا ہے، انہوں نے کہا کہ بھارت 70,000 سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اپس کے ساتھ، عالمی سطح پر اسٹارٹ اپس کے لیے تیسرے سب سے بڑے ایکو سسٹم کے طور پر ابھرا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت میں 100 یونیکارن کمپنیاں ہیں جن کی کل مالیت 300 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔

یوم ماحولیات کے موقع پر نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ بھارت ماحولیات کے تحفظ اورآب و ہوا کی  تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت کی قیادت نے انٹرنیشنل سولر الائنس (آئی ایس اے) قائم کیا ہے اور  وہ قابل تجدید توانائی پر زیادہ زور دے رہی  ہے۔ انہوں نے قطر کو دعوت دی کہ وہ اپنی توانائی کے تحفظ کے لئے  پائیداری کے اس سفر میں بھارت کے قابل اعتماد پارٹنر کے طور پر شراکت دار ی کرےاور آئی ایس اے میں شامل ہو۔

جناب نائیڈو نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ بزنس چیمبرز آف انڈیا اور قطر کے درمیان ایک مشترکہ بزنس کونسل قائم کی گئی ہے اور سرمایہ کاری پر ایک مشترکہ ٹاسک فورس اپنے کام کو آگے بڑھائے گی۔ انہوں نے نئے اور ابھرتے ہوئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے دونوں اطراف کے کاروباروں کی رہنمائی اور مدد کے شراکت داری میں داخل ہونے کے لیے انویسٹ انڈیا اور قطر انویسٹمنٹ پروموشن ایجنسی کی بھی ستائش کی۔

قطر فاؤنڈیشن کا دورہ، جوکہ  ایک سرکاری غیر منافع بخش تنظیم ہے

اس قبل  جناب نائیڈو نے قطر میں ایک غیر منافع بخش تنظیم قطر فاؤنڈیشن کا دورہ کیا۔ جناب نائیڈو نے تعلیم، صحت، سائنس اور ٹیکنالوجی اور کمیونٹی ڈیولپمنٹ میں قطر فاؤنڈیشن کی کوششوں کی تعریف کی۔

نیشنل میوزیم کا دورہ

نائب صدر جمہوریہ نے آج قطر کے نیشنل میوزیم کا بھی دورہ کیا۔ قطر کی شاندار تاریخ اور روایات کا ایک منفرد اور عمیق تجربہ فراہم کرنے کے لیے میوزیم کی تعریف کرتے ہوئے، انھوں نے بھارت اور قطر کے درمیان تاریخی رابطے  سے متعلق  نمائش دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا۔

قطر شوریٰ کونسل کے اسپیکر سے ملاقات

بعد ازاں، قطر شوریٰ کونسل کے اسپیکر جناب حسن عبداللہ الغنیم نے شوریٰ کونسل کے تین ارکان کے ہمراہ نائب صدر  جمہوریہ سے ملاقات کی۔ شوریٰ کونسل ریاست قطر کا قانون ساز ادارہ ہے جس کے 45 ارکان ہیں۔

اسپیکر کے ساتھ بات چیت میں، جناب نائیڈو نے بھارتی اور قطری پارلیمنٹ کے درمیان روابط کو گہرا کرنے اور پارلیمانی تبادلوں کو فروغ دینے کی اپیل کی۔ راجیہ سبھا کے چیئرمین کی حیثیت سے، جناب نائیڈو نے اسپیکر اور شوریٰ کونسل کے اراکین کو بھارت کے دورے  کی دعوت دی۔

نائب صدر جمہوریہ نے  اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ سال 2023 بھارت اور قطر کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات کے قیام کے 50 سال مکمل ہوجائیں گے،  تجویز پیش کی کہ دونوں پارلیمنٹ اس سنگ میل کے موقع پر ایک تقریب کا منصوبہ بھی بنائیں۔ انہوں نے بین پارلیمانی یونین (آئی پی یو)، ایشیائی پارلیمانی اسمبلی جیسے کثیر ملکی فورموں پر بھارت اور قطر کے درمیان مزید تعاون کی اپیل کی۔

اس دورے میں جناب نائیڈو کے ساتھ صحت اور خاندانی بہبود کی وزیر مملکت ڈاکٹر بھارتی پروین پوار، رکن پارلیمنٹ جناب سشیل کمار مودی، رکن پارلیمنٹ جناب وجے پال سنگھ تومر اور رکن پارلیمنٹ جناب پی رویندرناتھ، وایس  پریزیڈنٹ  سیکرٹریٹ اور وزارت خارجہ کے سینئر افسران بھی تھے۔

Recommended