Urdu News

ورچوئل طریقے سے ہندوستان -سویڈن انوویشن ڈے

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہند-سویڈش کمپنیوں کو دونوں طرف کے اسٹارٹ اپس کی حمایت کرنی چاہیے

سائنس اور ٹکنالوجی کے مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہند-سویڈش کمپنیوں کو دونوں طرف  کے  اسٹارٹ اپس کی مدد کرنی چاہیے. ہندوستان -سویڈن

اور با اشتراک پر مبنی  تحقیق اور انسانی وسائل کا تبادلہ کرنا چاہیے۔

ورچوئل طریقے سے  ہندوستان -سویڈن انوویشن ڈے کے 9ویں ایڈیشن سے. خطاب کرتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا، اشتراک پر مبنی  تحقیق اور مشترکہ اسٹارٹ اپس  ماحولیاتی نظام  سماجی بھلائی کے لیے سائنس، ٹکنالوجی .اور اختراع کی طاقت کو بروئے کار لاتے ہوئے .مشترکہ مستقبل کی تعمیر میں مدد کریں گے. ہندوستان -سویڈن

ہندوستان اور سویڈن میں صحت عامہ، نرسنگ یا نگہداشت کو بہتر بنانے کے. لیے مشترکہ پروجیکٹوں کا ذکر کرتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بتایا. کہ 2020 میں، محکمہ بائیو ٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی)، حکومت ہند، اورونوا ، حکومت سویڈن نے گرانٹ فنڈنگ کا اعلان کیا تھا . تاکہ  ایسے منصوبوں  پر عمل درآمدکیاجاسکے  جن کا مقصد نئے حل تیارکرنا ہے جن میں مصنوعی ذہانت .(اے آئی) کی مدد سے صحت عامہ کو بہتر بنانے کی نمایاں صلاحیت موجود ہو۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001BHUL.jpg

سویڈن کی انوویشن ایجنسی-ونوا کے مشترکہ فنڈ سے

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے یاد کیا کہ اپریل 2019 میں ہندوستان اور سویڈن نے ہندوستان-سویڈن اشتراک پر مبنی  صنعتی تحقیق اور ترقی پروگرام کا اعلان کیا تھا۔ انڈین ڈیپارٹمنٹ آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی (ڈی ایس ٹی) اور سویڈن کی انوویشن ایجنسی-ونوا کے مشترکہ فنڈ سے چلنے والا مشترکہ پروگرام – اسمارٹ سٹیز اور کلین ٹیکنالوجیز اور ڈیجیٹلائزیشن/انٹرنیٹ  آف تھنگس (آئی اوٹی )کے شعبے میں چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے سویڈن اور ہندوستان کی عالمی معیار کے ایکسی لنس کوایک ساتھ لاتا ہے۔

وزیرموصوف  کو یہ واضح کرتے ہوئے  بھی خوشی ہوئی کہ سویڈش انرجی ایجنسی نے ہندوستان کے ساتھ تحقیق

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے  یاد کیا کہ اپریل 2018 میں، وزیر اعظم نریندر مودی. کے سویڈن کے دورے کے دوران، ہندوستان نے پائیدار مستقبل کے لیے اختراعی شراکت داری پر مشترکہ اعلامیہ کے. ذریعے تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ انہوں نے کہا، شراکت داری کا مقصد . اختراع ، سائنس اور ٹکنالوجی میں دوطرفہ تعاون کے اثرات کو بڑھانا ہے. اور یہ مستقبل کے تعاون کے لیے مشترکہ طور پر سماجی چیلنجوں. سے نمٹنے کے لیے فریم ورک کا تعین کرتی ہے.  تاکہ  دونوں ممالک کے  ملٹی اسٹیک ہولڈر/ایجنسی کی شرکت داری . کے ساتھ کراس سیکٹورل مسائل سے مشترکہ طورپر نمٹاجاسکے.  جن میں اختراع  پر مبنی چیلنجز شامل ہیں۔

Recommended