Urdu News

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سکشم کے زیر اہتمام جموں و کشمیر کے کٹھوعہ میں ‘دیویانگ پریوار مہا سمیلن’ میں شرکت کی

سائنس اور ٹکنالوجی کے مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ گوا میں 

سائنس اور ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، ارضیاتی سائنسز کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلا کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت ان لوگوں کے لیے پوری طرح وقف ہے جنہیں پچھلی حکومتوں نے مرکزی دھارے سے باہر رکھا تھا۔

مرکزی وزیر نے یہ بات جموں و کشمیر کے کٹھوعہ میں ایک سماجی تنظیم سکشم کی پہل پر منعقدہ ’دویانگ پریوار مہا سمیلن‘ کے دوران کہی۔

اپنے خطاب کے دوران ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ جس دن سے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت کے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا ہے، ان کی طرف سے دویانگوں کی فلاح و بہبود کے لیے کچھ ٹھوس اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سول سروسز کے امتحان میں دویانگوں کے لیے فیس میں کمی، سول سروسز کے امتحان میں کوالیفائی کرنے والے دویانگوں کے لیے ہوم کیڈر کے دو انتخاب، دویانگوں کے لیے ریزرویشن 3 فیصد سے بڑھا کر 4 فیصد، دویانگ پنشن میں اضافہ وغیرہ جیسے اقدامات دویانگوں کی فلاح و بہبود کیلئے کئے گئے ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا  کہ دویانگوں کی فلاح و بہبود کے لیے 15000 اسامیاں جو پہلے نہیں بھری گئی تھیں

، حکومت کی ایک خصوصی مہم کے تحت پُر کی گئی تھیں جو صرف وزیر اعظم نریندر مودی کے دور میں ہی ممکن تھا جنہوں نے تجویز کیا کہ ‘دویانگ’ (ڈیوائن باڈی) کی اصطلاح معذور افراد کے لیے ‘وکلانگ’ کے بجائے استعمال کیا جائے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے مزید کہا کہ آنے والے برسوں میں ترقی کے معاملے میں ہندوستان کو ہر دوسرے ترقی یافتہ ملک کو پیچھے چھوڑ کر سب سے اوپر پہنچنے کے لیے دیویانگوں کو چھوڑا نہیں جا سکتا، انہیں بھی اگلے 20 سال تک ملک کی قومی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ ‘سنکلپ سے سدھی’ کے پانچ سالہ سفر تاکہ جب ہندوستان اپنی آزادی کی سو سال مکمل کر رہا ہو تو ان کا تعاون بھی سنہری الفاظ میں لکھا جائے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002Y5TN.jpg

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس حکومت نے 1600 سے زیادہ پرانے اور فرسودہ قوانین کو منسوخ کر دیا ہے جو کہ ملک کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ تھے اور ایسے بہت سے قوانین کو بھی دویانگوں کی فلاح و بہبود کے لیے یا تو ترمیم یا منسوخ کر دیا گیا ہے جیسے دیویانگ پنشن رولز وغیرہ۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے مزید کہا کہ ‘چہرے کی شناخت ٹیکنالوجی’ کا استعمال کرتے ہوئے پنشن یافتگان کو ‘ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ’ فراہم کرنا حکومت کی طرف سے ان پنشنرز کی سہولت کے لیے اٹھائے گئے سخت اقدامات میں سے ایک ہے جو پہلے اپنی پنشن جاری رکھنے کے سلسلے میں بہت سی تکلیفوں کا سامنا کر رہے تھے۔

آج کٹھوعہ میں اس ‘دویانگ پریوار مہا سمیلن’ کے انعقاد کے لیے سکشم کی تعریف

کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس ‘مہا سمیلن’ کا انعقاد ‘سنکلپ سے سدھی’ کی طرف بھی ایک قدم ہے اور دیویانگوں کی فلاح و بہبود کے لیے اب تک یہ پہلا ‘مہا سمیلن’ منعقد کیا گیا ہے۔

پروگرام کے دوران ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے 2025 تک وزیر اعظم نریندر مودی کے تپ دق سے پاک بھارت کے وژن کو پورا کرنے کے لیے ان کی روز مرہ کی ضروریات کا خیال رکھنے کے لیے ان کے ذریعہ اپنائے گئے ٹی بی کے 10 مریضوں میں کٹس تقسیم کیں۔

اس تقریب کے دوران جموں اور کشمیر بینک کے ایم ڈی اور سی ای، بلدیو پرکاش نے مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کی موجودگی میں ‘کارپوریٹ سماجی ذمہ داری’ کے تحت 100 وہیل چیئرز اور 100 خصوصی ٹرائی سائیکلیں ‘سکشم’ کو دیں۔

Recommended