Urdu News

قومی تعلیمی پالیسی کونافذ کرنے والا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بنا ملک کا پہلا ادارہ

اے ایم یو ایڈمنسٹریشن کے ذمہ داران پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020 کو نافذ کرنے والا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ملک کا پہلا ادارہ بن گیا ہے آج اے ایم یو انتظامیہ کے ذمہ داران نے پریس کانفرنس کراسکی تفصیلات میڈیا کو بتائی۔ اے ایم یو کے ایڈمنسٹریٹیو بلاک میں کانفرنس ہال میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کنٹرول برائے امتحانات ڈاکٹر مجیب اللہ زبیری،ڈاکٹر سہیل مستجاب، کوآرڈنیٹر، این ای پی سیل، پروفیسراسفرعلی، ڈائرکٹر، اسکول ایجوکیشن،اور پروفیسراسد یو خان، ڈائرکٹر، آئی کیو اے سی نے بتایا کہ این ای پی ایڈوائزری کمیٹی کی کوششوں کے متاثر کن نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

اس خبر کو بھی پڑھ سکتے ہیں

انھوں نے بتایا کہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یوجی سی) کے احکامات کے بعد ہی اے ایم یو نے قومی تعلیمی پالیسی کے مؤثر نفاذ کے لیے 24 نومبر 2021 کو ایک علاحدہ این ای پی سیل قائم کیاتھا اس سلسلہ میں اے ایم یو نے این ای پی ایڈوائزری کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے، جس نے قومی تعلیمی پالیسی 2020 کو تعلیمی سیشن 2022-23 سے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ابھی تک اس سلسلہ میں جو اقدامات کئے گئے ہیں ان میں چار سالہ انڈرگریجویٹ پروگرام کے لیے ایک کریڈٹ فریم ورک تیار کیا گیا اور اسے مختلف فیکلٹیوں بشمول آرٹس، کامرس، سائنس، سوشل سائنس، لائف سائنس، انٹرنیشنل اسٹڈیز، اور تھیالوجی (دینیات) میں تعلیمی سیشن 2022-23 سے متعارف کرایا گیا ہے۔اے ایم یو میں چار سالہ انڈرگریجویٹ پروگرام (بی اے / بی ایس سی / بی کام) اب ملٹی ڈسپلینری اور انٹر ڈسپلینری اصول پر زور دیتا ہے، جس سے طلبا  کو مختلف فیکلٹیوں سے مضامین منتخب کرنے کا موقع ملتا ہے۔

اس خبر کو بھی پڑھ سکتے ہیں

 طلبا  کی مہارتوں کو بڑھانے کے لیے ووکیشنل اور اس طرح کے دیگر کورسز بھی متعارف کرائے گئے ہیں، جب کہ کورس کے آخری سال میں ریسرچ میتھڈولوجی اور سیمیناروں کے ذریعے تحقیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔این ای پی 2020 کے اہداف کے مطابق نصاب اور کریڈٹ فریم ورک متعارف کرایا ہے، جو طلبا  کو اپنی پسند کے مطابق انتخاب (چوائس بیسڈ کریڈٹ سسٹم) کا موقع دیتا ہے۔

یہ فریم ورک طلبا  کو چار سالہ انڈرگریجویٹ پروگرام میں ہر تعلیمی سال کے اختتام پر داخلے اور باہر نکلنے کی اجازت دیتا ہے۔اس کے نفاذ کے لئے مطلوبہ ضابطے فی الحال تیار کیے جا رہے ہیں۔  چار سالہ انڈرگریجویٹ پروگرام کے تحت، اب طلبا  کے پاس اپنے آخری سال میں عملی تجربات جیسے کہ اپرنٹس شپ، انٹرن شپ، فیلڈ پروجیکٹ، کمیونٹی آؤٹ ریچ پروگرام، اور مقالہ تیار کرنے کے مواقع ہیں۔

اس خبر کو بھی پڑھ سکتے ہیں

 تمام شعبہ جات کو ان کے یہاں بنیادی ڈھانچے اور اساتذہ کی دستیابی کی بنیاد پر ان پروگراموں کو متعارف کرانے کی آزادی دی گئی ہے۔اے ایم یو نے ایک اکیڈمک بینک آف کریڈٹ (اے بی سی) سیل قائم کیا ہے، اے بی سی اور این اے ڈی کے نفاذ کے لئے ڈِجی لاکر پلیٹ فارم کو اپنایا گیا ہے۔ اے ایم یو کے ذریعے شروع کیے گئے دیگر اقدامات میں اے ایم یو کے اسکولوں کے لیے نیشنل کریڈٹ فریم ورک اور نیشنل ہائر ایجوکیشن کوالیفکیشن فریم ورک (این ایچ ای کیو ایف) کا نفاذ شامل ہے۔ بیک وقت دو تعلیمی کورس کرنے کے سلسلہ میں رہنما اصول اپنا لیے گئے ہیں، اور پی ایچ ڈی کی ڈگری کے لیے مطلوبہ معیارات اور طریقہ کار کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

اس خبر کو بھی پڑھ سکتے ہیں

جدت طرازی اور صنعت پر مبنی حصولِ علم پر توجہ دینے کے ساتھ اے ایم یو نے ایم ایس سی (سائبر سیکیورٹی)، ایم ایس سی (ڈاٹا سائنس)، بی ٹیک اور ایم ٹیک (مصنوعی ذہانت)، بیچلر آف ویڑول آرٹس (بی وی اے) اور ماسٹر آف ویڑول آرٹس (ایم وی اے) جیسے کورس متعارف کئے ہیں اور 4 سالہ انٹیگریٹیڈ بی ایڈ کورس کو منظوری دی گئی ہے۔ پریس کانفرنس کو کامیاب بنانے میں افسربرائے رابطہ عامہ مسٹر عمر ایس پیرزادہ،نائب افسر رابطہ عامہ ذیشان احمد، شمیم الزماں،فضل الرحمن اور حسیب بیگ کے ساتھ دیگر غیر تدریسی عملہ نے اہم رول ادا کیا۔

Recommended