Urdu News

ولادیمیر پوتن انڈونیشیا کے جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے

ولادیمیر پوتن

ماسکو، 11 نومبر (انڈیا نیریٹو)

روسی صدر ولادیمیر پوتن رواں ماہ انڈونیشیا کے شہر بالی میں مجوزہ جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ روس کی جانب سے اس اعلان کے ساتھ اطلاع دی گئی ہے کہ وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اب پوتن کی جگہجی-20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے انڈونیشیا جائیں گے۔

روس بھی جی-20 گروپ کا رکن ہے

جی-20 ممالک کے سربراہان کا سربراہی اجلاس 15 اور 16 نومبر کو انڈونیشیا کے شہر بالی میں ہونا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن اور چینی صدر شی جن پنگ نے یہاں آمد کی تصدیق کر دی ہے۔ روس بھی جی-20 گروپ کا رکن ہے، اس لیے مسلسل قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ آیا روسی صدر ولادیمیر پوتن جی-20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے انڈونیشیا جائیں گے۔

حال ہی میں ایک پروگرام میں پوتن نے یہ کہہ کر ان قیاس آرائیوں کو ہوا دے دی تھی کہ انہوں نے بالی جانے یا 15 گھنٹے کے لیے ہوائی سفر کرنے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ اسی تقریب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ انڈونیشیا نہیں گئے تو ایک اعلیٰ سطحی روسی وفد جی-20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے جائے گا۔ اب روس کی جانب سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا ہے کہ پوٹن اس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نہیں جائیں گے۔ ان کی جگہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف انڈونیشیا جائیں گے۔

اب پیوتن کے انڈونیشیا نہ جانے کے اعلان کے بعد بین الاقوامی سیاسی مساوات کے حوالے سے بات چیت شروع ہو گئی ہے۔ امریکی صدر بائیڈن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر پوتن بالی پہنچ بھی گئے تو وہ پوتن سے الگ بات چیت نہیں کریں گے۔ اس کے برعکس، چینی صدر شی جن پنگ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناو¿ کے باوجود بائیڈن کے ساتھ بالی میں دو طرفہ بات چیت کر سکتے ہیں۔ جی 20 گروپ میں ارجنٹائن، آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، چین، فرانس، جرمنی، بھارت، انڈونیشیا، اٹلی، جاپان، جمہوریہ کوریا، میکسیکو، روس، سعودی عرب، جنوبی افریقہ، ترکی، برطانیہ، امریکہ او یورپی یونین (ای یو) شامل ہیں۔

Recommended