Urdu News

وزیر اعظم نے کووڈ-19 ٹیکہ کاری سے متعلق حالات کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی میٹنگ کی

وزیر اعظم نے اگلے کچھ مہینوں کے لیے ٹیکوں کی پیداوار اور سپلائی کا جائزہ لیا

 

وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ بلاکر کووڈ-19 سے متعلق حالات کا جائزہ لیا۔ اس دوران اس بات پر بھی گفتگو ہوئی کہ دنیا بھر میں کئی ایسے ملک ہیں جہاں کووڈ کے معاملوں کی تعداد زیادہ بنی ہوئی ہے۔ بھارت میں بھی، مہاراشٹر اور کیرالہ جیسی ریاستوں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ذاتی اطمینان کے لیے کوئی جگہ نہیں ہو سکتی ہے۔ حالانکہ، لگارتار 10ویں ہفتے بیماری کی ہفتہ واری شرح 3 فیصد سے کم رہی ہے۔

وزیر اعظم کو کچھ جغرافیائی علاقوں میں بیماری کے پھیلنے، زیادہ بیماری والے ضلعوں اور ملک میں ہفتہ در ہفتہ بیماری کی شرح کے بارے میں جانکاری دی گئی۔ کووڈ-19 کے حالات، ردعمل کے لیے طبی نظام کی تیاری، طبی آکسیجن کی دستیابی اور کووڈ-19 ٹیکہ کی پیداوار، سپلائی اور مارکیٹنگ سے متعلق موضوعات پر گفتگو کی گئی۔

وزیر اعظم نے وائرس کی شکل و صورت کے ابھرنے کی نگرانی کے لیے لگاتار جینوم سکوینسنگ کی ضرورت پر زور دیا۔ افسروں نے پی ایم کو بتایا کہ آئی این ایس اے سی او جی کے تحت اب ملک بھر میں 28 تجربہ گاہیں ہیں۔ کلینکل تعلقات کے لیے لیب نیٹ ورک کو اسپتال نیٹ ورک سے بھی جوڑا گیا ہے۔ جینومک سرویلانس کے لیے سیویج سیمپلنگ بھی کی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ ریاستوں سے درخواست کی گئی ہے ک وہ سارس کوو2 کے پازیٹو نمونے آئی این ایس اے سی او جی کے ساتھ باقاعدگی سے شیئر کریں۔

وزیر اعظم نے ’کووڈ ایمرجنسی رسپانس پیکیج 2‘‘ کے تحت بچوں کی طبی نگہداشت گااور دیگر سہولیاتکے لیے بستروں کی تعداد میں اضافہ کی حالت کا جائزہ لیا۔ اس پر بھی بات کی گئی کہ دیہی علاقوں میں حالات سے نمٹنے کے لیے ریاستوں کو ان علاقوں میں ابتدائی نگہداشت اور بلاک سطح کے صحت کے بنیادی ڈھانچے کو پھر سے ڈیزائن اور تیار کرنے کی صلاح دی گئی ہے۔

وزیر اعظم کو بتایا کہ ریاستوں کو کووڈ-19، میوکر مائیکوسس، ایم آئی ایس-سی (بچوں کی خطرناک بیماری) کے انتظام میں استعمال ہونے والی دواؤں کا بفر اسٹاک ضلع کی سطح پر بنائے رکھنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم کو آئیسولیشن بیڈ، آکسیجن بیڈ، آئی سی یو بیڈ اور بچوں کے لیے آئی سی یو اور وینٹی لیٹر میں اضافہ کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی۔ آنے والے مہینوں میں بڑی تعداد میں آئی سی یو بیڈ اور آکسیجن بیڈ مزید بڑھائے جائیں گے۔

وزیر اعظم نے ملک بھر میں مناسب جانچ کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ افسران نے وزیر اعظم کو بتایا کہ صحت عامہ کے مراکز میں آر ٹی-پی سی آر تجربہ گاہ قائم کرنے کے لیے 433 ضلعوں کو تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آکسیجن کنسنٹریٹر، سیلنڈر اور پی ایس اے پلانٹ سمیت آکسیجن کی دستیابی میں اضافہ کو یقینی بنانے کے لیے اس سے جڑے پورے نظام کو تیزی سے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ہر ایک ضلع میں کم از کم ایک پی ایس اے پلانٹ لگانے کے مقصد کے ساتھ 961 سیال میڈیکل آکسیجن اسٹوریج ٹینگ اور 1450 طبی گیس پائپ لائن سسٹم قائم کرنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہر ایک بلاک میں کم از کم ایک ایمبولینس کے انتظام کو یقینی بنانے کے لیے ایمبولینس نیٹ ورک کو بھی بڑھایا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے ملک بھر میں لگنے والے پی ایس اے آکسیجن پلانٹوں کی حالت کا بھی جائزہ لیا۔

وزیر اعظم کو یہ بھی بتایا گیا کہ ریاستوں کو تقریباً ایک لاکھ آکسیجن کنسنٹریٹر اور 3 لاکھ آکسیجن سیلنڈر تقسیم کیے گئے ہیں۔ ٹیکہ پر وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ بھارت کی تقریباً 58 فیصد بالغ آبادی کو پہلی خوراک مل گئی ہے اور بھارت کی تقریباً 18 فیصد بالغ آبادی کو دوسری خوراک مل چکی ہے۔ وزیر اعظم کو آئندہ ٹیکوں اور ٹیکوں کی سپلائی بڑھانے کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی گئی۔

میٹنگ میں وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری، کابینہ سکریٹری، پرنسپل سائنسی صلاح کار، ہیلتھ سکریٹری، ممبر (صحت) نیتی آیوگ سمیت کئی اہم افسران موجود تھے۔

Recommended

کووڈ-19 اپ ڈیٹ

کووڈ-19 اپ ڈیٹ

کووڈ -19 کی تازہ ترین صورتحال

کووڈ -19 کی تازہ ترین صورتحال

 کووڈ -19 کی تازہ ترین صورتحال

 کووڈ -19 کی تازہ ترین صورتحال

کووڈ-19 اپ ڈیٹ

کووڈ-19 اپ ڈیٹ

کووڈ -19 کی تازہ ترین صورتحال

کووڈ -19 کی تازہ ترین صورتحال